جلد از جلد سپریم کورٹ کی ساکھ بچائیے ورنہ جمہوری نظام خطرے میں ہوگا

سپریم کورٹ میں ’سب ٹھیک نہیں‘ اور ’جمہوریت کو خطرہ‘ ہے۔ اگر سپریم کورٹ میں سب ٹھیک نہیں تو پھر اس ملک کے شہری کو انصاف کہاں ملے گا!

ملک اب اس افسوسناک مقام پر آ پہنچا ہے کہ جہاں سپریم کورٹ کے چار فاضل جج خود چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف کھلی بغاوت کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی عدلیہ کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ یعنی سپریم کورٹ کے چار جج خود ایک پریس کانفرنس بلا کر موجودہ چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف الزام لگائیں۔ الزام بھی کیسا کہ چیف جسٹس کورٹ کے ضوابط کے مطابق کام نہیں کر رہے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ چار ججوں نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ الزام بھی لگایا کہ سپریم کورٹ میں ’سب ٹھیک نہیں‘ اور ’جمہوریت کو خطرہ‘ ہے۔ اگر سپریم کورٹ میں سب ٹھیک نہیں تو پھر اس ملک کے شہری کو انصاف کہاں ملے گا! سپریم کورٹ کے ججوں کی پریس کانفرنس کے بعد سب سے بڑا سوال یہی ہے جو اس ملک کے سامنے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

سچ تو یہی ہے کہ نوبت یہاں تک اس وجہ سے پہنچی کہ دو معاملات میں خود سپریم کورٹ کے ججوں کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ سپریم کورٹ میں سہی معنوں میں انصاف نہیں ہو رہا ہے۔ ایک معاملہ سی بی آئی جج جسٹس لویا کی موت کا ہے۔ جسٹس لویا بی جے پی کے موجودہ صدر امت شاہ کے خلاف ایک معاملے کی جانچ کر رہے تھے اور یکایک وہ ایک گیسٹ ہاؤس میں میڈیکل رپورٹ کے مطابق دل کا دورہ پڑنے سے مر گئے۔ دہلی کی ’کارواں‘ میگزین نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ شائع کی جس کی روشنی میں جسٹس لویا کی موت مشتبہ حالات میں ہوئی تھی۔ اس معاملے پر جب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو کوئی تشفی بخش قدم نہیں اٹھایا گیا۔ دوسرا معاملہ لکھنؤ کے ایک میڈیکل کالج میں بدعنوانی کا ہے جس میں خود سپریم کورٹ کے ایک اعلیٰ جج پر آنچ آ رہی ہے۔

الغرض سپریم کورٹ کے چار فاضل ججوں نے پریس کانفرنس کر ملک میں سپریم کورٹ کے تعلق سے دو شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ اولاً یہ کہ سپریم کورٹ حکومت کے دباؤ میں ہے۔ دوسرے یہ کہ عدلیہ کی سب سے بڑی عدالت میں خود انصاف خطرے میں ہے۔ اب اس شبہ کے بعد بھلا عام ہندوستانی کیسے نظام عدلیہ پر بھروسہ کر سکتا ہے۔ اگر سپریم کورٹ جیسی اعلیٰ ترین عدالت پر ہی بھروسہ ختم ہو جائے گا تو پھر جمہوریت خطرے میں نہیں تو پھر اور کیا سمجھا جائے گا۔ لب و لباب یہ کہ اب سپریم کورٹ پر ایک سوالیہ نشان لگ چکا ہے اور یہ صورت حال ملک کے لیے سنگین ہے۔

ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ عدلیہ کسی بھی جمہوری نظام کا اٹوٹ حصہ ہوتا ہے۔ ملک کی عدلیہ پر سوال اٹھانے کے بعد پورے جمہوری نظام پر ایک سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ اب اس مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی بھی کوتاہی عدلیہ کے ساتھ ساتھ ملک کی ساکھ کے لیے بھی خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے بغیر کسی کوتاہی کے سپریم کورٹ اور ملک دونوں کی ساکھ بچانا لازمی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول