’کووڈ وبا ختم ہو گئی، لیکن حراست میں اموات کا سلسلہ کم نہیں ہو رہا‘، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کیوں کیا یہ تلخ تبصرہ؟
جسٹس منیش ماتھر نے آر پی ایف کے داروغہ کرن سنگھ یادو اور سپاہی امت کمار یادو کی الگ الگ اپیلیں خارج کر دیں۔ ان دونوں ملزمین نے گونڈا کے اسپیشل جج کے 4 اگست کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا۔

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے گونڈا میں 35 سالہ ایک شخص کی مبینہ طور پر حراست میں ہوئی موت سے متعلق معاملہ میں ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کے 2 ملزم اہلکاروں کی پیشگی ضمانت کی درخواستیں 16 ستمبر کو خارج کر دیں۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’’اگرچہ کووڈ-19 کی وبا ختم ہو چکی ہے، لیکن حراست میں موت کا سلسلہ کم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔‘‘
جسٹس منیش ماتھر نے ریلوے پروٹیکشن فورس کے داروغہ کرن سنگھ یادو اور سپاہی امت کمار یادو کی الگ الگ اپیلیں خارج کر دیں۔ ان دونوں ملزمین نے گونڈا کے اسپیشل جج (ایس سی/ایس ٹی ایکٹ) کے 4 اگست کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں ان کی پیشگی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی گئی تھیں۔ یہ معاملہ گونڈا کے کنکی گاؤں کا ہے۔ یہاں رہنے والے سنجے کمار سونکر کی مبینہ طور پر حراست میں موت ہو گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق گزشتہ سال 28 ستمبر کو گونڈا سے گوہاٹی جا رہی ایک مال گاڑی سے موتی گنج ریلوے اسٹیشن کے علاقہ میں سرسوں کے تیل کے 6 ڈبے چوری ہو گئے تھے اور آر پی ایف کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں سنجے سونکر کا نام سامنے آیا تھا۔
4 نومبر 2025 کو آر پی ایف کے اہلکار سنجے سونکر کو پوچھ گچھ کے لیے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور شام تقریباً ساڑھے 4 بجے اسے تحقیقات کے سلسلے میں اس کے گاؤں لے کر آئے اور بعد میں اسے دوبارہ اپنے ساتھ لے گئے۔ اگلی صبح سونکر کے بھائی کو اطلاع دی گئی کہ اس کے بھائی کی لاش مردہ خانے میں ہے۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ حراست میں رکھنے کے دوران سنجے سونکر کے ساتھ جم کر مار پیٹ کی گئی اور اسی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔ اس کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے آر پی ایف کے داروغہ کرن سنگھ یادو اور سپاہی امت کمار یادو نے الزامات سے انکار کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں اس معاملے میں غلط طور پر پھنسایا گیا ہے۔
ان آر پی ایف اہلکاروں کے وکیل نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں جانگھ کے اوپری حصہ پر چوٹ اور دونوں گھٹنوں پر خراش کا ذکر تھا۔ ان کی دلیل تھی کہ ان چوٹوں کی وجہ سے کسی کی موت نہیں ہو سکتی۔ تاہم سماعت کے دوران بنچ نے دونوں کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے کہا کہ شواہد کی بنیاد پر یہ طے کیا جائے گا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج الزامات کی تائید کرتے ہیں یا نہیں۔
اس درمیان بنچ نے کورونا کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ اگرچہ کورونا وبا کا دور ختم ہو چکا ہے، لیکن حراست میں موت کا مسئلہ کم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔‘‘ دراصل کورونا کے دور میں حراست میں موت سے متعلق کئی کیسز سامنے آئے تھے۔ ظاہر ہے اُس دور میں کورونا وبا نے ہر جگہ تباہی مچائی تھی اور جیلوں میں بھی کئی اموات ہوئی تھیں۔ لیکن کورونا وبا ختم ہونے کے بعد جیل میں بند قیدیوں کی موت کا معاملہ فکر انگیز ہے۔ بہرحال، عدالت نے کہا کہ حراست میں موت کے معاملوں میں عام طور پر ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری پولیس اہلکاروں کی ہونی چاہیے، تاکہ وہ اپنے غلط رویے کی وجہ سے انسانی زندگی کو کمتر سمجھنے کے الزامات کو غلط ثابت کر سکیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
