اب نہیں ملے گی تاریخ پر تاریخ! 3 ماہ میں سنانا ہوگا فیصلہ، سپریم کورٹ نے سبھی ہائی کورٹ کو دی ہدایت
سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ کسی بھی مقدمے میں فیصلہ محفوظ (ریزرو) رکھے جانے کے بعد اسے زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کے اندر سنایا جانا چاہیے۔

عدالتوں میں زیر التوا مقدمات اور فیصلوں میں ہونے والی تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ملک کی تمام ہائی کورٹس کے لیے لازمی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے محفوظ فیصلوں، ضمانت کے احکامات اور ان کی وجوہات کو عوامی کرنے کے لیے واضح مدت مقرر کر دی ہے۔ سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ کسی بھی مقدمے میں فیصلہ محفوظ (ریزرو) رکھے جانے کے بعد اسے زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کے اندر سنایا جانا چاہیے۔ اسی طرح ضمانت سے متعلق معاملات میں حکم عموماً اگلے دن جاری کیا جائے اور اسی دن جیل انتظامیہ تک پہنچایا جائے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ جن زیر سماعت قیدیوں کو ضمانت مل چکی ہو، ان کی رہائی اسی دن یا زیادہ سے زیادہ اگلے دن یقینی بنائی جانی چاہیے۔ نئی ہدایات کے مطابق عدالت پہلے حکم کا مؤثر حصہ (آپریٹو پارٹ) کھلی عدالت میں سنائے گی اور اس کی تفصیلی وجوہات 7 دن کے اندر ویب سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی۔ ساتھ ہی جس دن فیصلہ محفوظ رکھا گیا ہو، اس کی معلومات بھی متعلقہ ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر ظاہر کی جائیں گی۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت پر عمل نہیں کیا جاتا تو مقدمہ کسی دوسری بنچ کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر فیصلے کی وجوہات 30 دن کے اندر اپلوڈ نہ کی جائیں تو معاملہ واپس لے کر نئی بنچ کے سامنے بھیجا جا سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرار جنرلز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان گائیڈلائنس، یعنی رہنما ہدایات کو متعلقہ چیف جسٹس کے سامنے پیش کریں تاکہ ان پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
