احمد آباد میں آلودہ پانی سے افراتفری، الٹی اور دست کے 20 مریض اسپتال میں داخل
احمد آباد کے سولا علاقے میں پینے کے آلودہ پانی کی سپلائی کے بعد تقریباً 50 افراد بیمار ہو گئے۔ الٹی اور دست کی شکایات پر متاثرین کو علاج فراہم کیا گیا جبکہ محکمہ صحت نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے

احمد آباد میں آلودہ پینے کے پانی کی سپلائی نے ایک بڑے صحت کے بحران کی شکل اختیار کر لی، جہاں الٹی اور دست کی شکایات کے بعد تقریباً 50 افراد کو طبی امداد کی ضرورت پیش آئی۔ متاثرہ افراد کو فوری طور پر علاج کے لیے اسپتالوں اور طبی مراکز میں پہنچایا گیا، جس کے بعد مقامی انتظامیہ اور صحت محکمے نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے۔
یہ واقعہ احمد آباد کے گوٹا وارڈ کے سولا علاقے میں جنتا نگر کراس روڈ کے نزدیک پیش آیا، جہاں متعدد رہائشی سوسائٹیوں کے مکین اچانک بیمار پڑنے لگے۔ مقامی لوگوں کے مطابق کئی گھروں میں ایک ہی وقت میں افراد کو پیٹ کی خرابی، قے اور دست کی شکایات شروع ہوئیں، جس سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
میونسپل حکام کی ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ نکاسی آب کی لائن اور پینے کے پانی کی پائپ لائن کی مرمت کے دوران پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کے باعث سیور کا پانی پینے کے پانی میں شامل ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی رہائشی علاقوں تک آلودہ پانی پہنچا اور سیکڑوں خاندان اس سے متاثر ہوئے۔
حکام کے مطابق علامات ظاہر ہوتے ہی صحت اور انجینئرنگ محکموں کی ٹیمیں موقع پر روانہ کی گئیں۔ طبی عملے نے متاثرہ علاقوں میں کیمپ لگائے اور مریضوں کو فوری علاج فراہم کیا۔ سولا کے ستادھار برج کے نزدیک واقع آکانکشا فلیٹ، نورتن فلیٹ اور تریدیو سوسائٹی سمیت کئی رہائشی علاقوں میں بیماری کے متعدد معاملات سامنے آئے۔
میونسپل کارپوریشن کے طبی افسر ڈاکٹر بھاون سولنکی نے بتایا کہ ایک طبی وین کے ذریعے تقریباً پچاس مریضوں کا بیرونی مریض شعبے کی سطح پر علاج کیا گیا۔ ان کے مطابق تمام مریضوں کی حالت اب مستحکم ہے اور جن افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ان میں سے بعض کو گھر واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیگر کو بھی جلد فارغ کیے جانے کی امید ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی کی وجہ سے تقریباً 326 گھر متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ سوسائٹیوں کی پانی کی ٹنکیوں کی صفائی شروع کر دی گئی ہے جبکہ پانی کے ذخیرہ کرنے کے نظام کا بھی تفصیلی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ صحت محکمے کی تقریباً چالیس ٹیمیں گھر گھر جا کر سروے کر رہی ہیں تاکہ مزید متاثرین کی نشاندہی کی جا سکے۔ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے رہائشیوں میں کلورین کی گولیاں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔
واقعے کے بعد احمد آباد کے میئر ہتیش باروٹ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مقامی باشندوں سے ملاقات کر کے صورتحال کا جائزہ لیا۔ میونسپل کمشنر بنچ ندھی پانی نے متعلقہ افسران کو پانی کی فراہمی کے نظام اور زیر زمین ذخیرہ آب کی مکمل جانچ کے احکامات دیے ہیں۔
دریں اثنا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل اور احمد آباد میونسپل کارپوریشن کے سینئر حکام سے معلومات حاصل کیں اور متاثرہ علاقوں میں ضروری اصلاحی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی۔
