ساورکر پر تبصرہ معاملہ میں راہل گاندھی کے خلاف داخل مقدمہ شکایت دہندہ نے لیا واپس، عدالت نے کیس کیا بند

شکایت کی بنیاد پر تعزیرات ہند کی دفعہ 499 (ہتک عزتی) اور دفعہ 504 (قصداً بے عزتی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ناسک کورٹ نے ستمبر 2024 میں راہل گاندھی کو سمن جاری کیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p> راہل گاندھی، تصویر بشکریہ&nbsp;@INCIndia</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے خلاف ساورکر کے بارے میں 2022 میں دیے گئے بیان پر درج ہتکِ عزت کے مقدمہ کو ناسک کی ایک فوجداری عدالت نے بند کر دیا ہے۔ یہ بیان ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران دیا گیا تھا۔ مقدمہ ناسک میں موجود ’نربھیا فاؤنڈیشن‘ کے صدر دیویندر بھوٹاڈا نے درج کرایا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ راہل گاندھی نے 15 اور 16 جون 2022 کو ہنگولی اور اکولے میں منعقد ریلیوں کے دوران جو تبصرے کیے، وہ ہتک آمیز اور توہین آمیز تھے۔

اس شکایت کی بنیاد پر تعزیرات ہند کی دفعہ 499 (ہتکِ عزتی) اور دفعہ 504 (قصداً بے عزتی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ناسک کورٹ نے ستمبر 2024 میں راہل گاندھی کو سمن جاری کیا تھا۔ بعد میں راہل گاندھی کو ضمانت مل گئی اور انہیں سماعت میں ورچوئل طور پر شامل ہونے کی اجازت بھی دی گئی۔ راہل گاندھی نے عدالت کے سامنے اپنی بات رکھتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا تھا۔


عدالت نے ستمبر 2024 میں ضابطۂ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 202 کے تحت جانچ کا حکم بھی دیا تھا۔ پولیس کی رپورٹ جمع ہونے کے بعد شکایت کنندہ نے مقدمہ واپس لینے کی درخواست کی۔ اس کے بعد ٹرائل جج نے مقدمے کی سماعت ختم کرتے ہوئے ہتکِ عزتی کی کارروائی بند کر دی۔ اس فیصلہ کے ساتھ ہی اس معاملے میں راہل گاندھی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ معاملہ نومبر 2022 کا ہے، جب راہل گاندھی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران ہنگولی اور اکولا اضلاع میں موجود تھے۔ 17 نومبر 2022 کو اکولا میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے وی ڈی ساورکر سے متعلق دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ ساورکر نے خوف کے باعث انگریزوں کو معافی نامہ لکھا تھا اور وہ پنشن بھی لیتے تھے۔ راہل گاندھی کے اس بیان کی بنیاد پر ناسک کے سماجی کارکن دیویندر بھوٹاڈا نے ان کے خلاف ہتکِ عزتی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ بھوٹاڈا کا الزام تھا کہ راہل گاندھی کے بیان سے ساورکر کی شبیہ کو نقصان پہنچا اور کروڑوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے۔