آئیے، ملاقات کیجیے حق رائے دہی سے محروم ایک خاص ’ووٹرس‘ کی جماعت سے... نندلال شرما

یوپی کا ایس آئی آر ظاہر کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر اہلیت کے پیمانے ہی بدل ڈالے ہیں۔ ’6 یا اس سے زیادہ بچے‘ والے اصول پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ الیکشن کمیشن نے طے کیسے کیا کہ کسی کے کتنے بچے ہیں؟

<div class="paragraphs"><p>ایس آئی آر (علامتی تصویر، اے آئی)</p></div>
i
user

نندلال شرما

google_preferred_badge

کیا کسی ہندوستانی شہری کے ’6 یا اس سے زیادہ‘ بچے ہوں تو محض اس بنیاد پر اس کا حق رائے دہی چھینا جا سکتا ہے؟ جواب ہے، ہاں۔ کیونکہ وارانسی کینٹ کے 35 سالہ ووٹر سونو گیری کے ساتھ یہی ہوا۔ 6 جنوری 2026 کو ووٹر لسٹ کا مسودہ جاری ہونے کے کچھ وقت بعد سونو کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس ملا۔ اس میں ان کے ’6 یا اس سے زیادہ‘ بچے ہونے پر جواب طلب کیا گیا تھا۔ حتمی ووٹر لسٹ میں سونو گیری کا نام موجود نہیں تھا۔

سونو تنہا نہیں ہیں، جسے زیادہ بچہ ہونے کی وجہ سے ووٹر لسٹ سے باہر کر دیا گیا۔ ’سنڈے نوجیون‘ نے وارانسی کینٹ اسمبلی حلقہ کے 4 پولنگ مراکز... حمیدیہ مدرسہ، بجرڈیہا (177)، گوینکا سنسکرت مہاودیالیہ، اسی سنگم (345)، مرکزی مدرسہ انصار العلوم، قاضی پورہ خرد (15) اور کنیا پرائمری و اپر پرائمری اسکول، سنکل دھارا (228) کے 20 بوتھوں کی ووٹر لسٹس کا جائزہ لیا، جس میں معلوم ہوا کہ اسی بنیاد پر بڑی تعداد میں نام حذف کیے گئے۔


49 سالہ گریجیش کمار (اسّی سنگم) کو بھی نوٹس ملا، جس میں ’دادا دادی سے عمر کا فرق 40 سال سے کم‘ اور ’6 یا اس سے زیادہ بچے‘ ہونے کی وجہ درج تھی۔ 38 سالہ جتیندر موریہ (سنکل دھارا) کو ملنے والے نوٹس میں ’نام میں گڑبڑی‘ کے ساتھ ’6 یا اس سے زیادہ بچے‘ والی وجہ بھی بتائی گئی۔

حتمی ووٹر لسٹ میں سونو، گریجیش، جتیندر سمیت حذف کیے گئے کئی ووٹرس کو ’کیو‘ (Q) زمرے میں رکھا گیا، جس کا مطلب تھا ’نااہل‘۔ حذف کیے گئے دیگر ووٹرس کو ’ای‘ (مردہ)، ’ایس‘ (منتقل شدہ)، ’آر‘ (دہرا/ڈپلیکیٹ) اور ’ایم‘ (لاپتہ) جیسے کوڈ دیے گئے تھے۔ سونو گیری کے بوتھ حمیدیہ مدرسہ میں کمیشن نے 150 نام حذف کیے، جن میں 61 مرد اور 89 خواتین شامل تھیں۔ وجوہات میں ’آخری ایس آئی آر کے ساتھ میپ نہ ہونا‘ (91 ووٹر) اور ’6 یا اس سے زیادہ بچے‘ (27 ووٹر) شامل تھے۔ گوینکا سنسکرت مہاودیالیہ میں 78 خواتین سمیت 187 ووٹرس کے نام کاٹے گئے۔ وجوہات: ’میپ نہ ہونا‘ (102 ووٹرس)، ’دادا اور پوتے کی عمر میں 40 سال سے کم کا فرق‘ (40 ووٹرس) اور ’6 یا اس سے زیادہ بچے‘ (20 ووٹرس)۔ قاضی پورہ خرد میں 114 ووٹرس (56 خواتین) کے نام حذف کیے گئے۔ 103 نام اس لیے ہٹائے گئے کیونکہ ’آخری ایس آئی آر کے ساتھ میپ نہیں کیا جا سکا‘۔ کنیا پرائمری اور اپر پرائمری گرلز اسکول میں بھی 57 نام حذف کیے گئے۔


الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 28 جون 2025 کو اعلان کیا تھا کہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 326 کے تحت ’صرف 18 سال سے زیادہ عمر کے ہندوستانی شہری، جو کسی اسمبلی حلقے کے معمول کے رہائشی ہوں، ہی ووٹر بن سکتے ہیں۔‘ حالانکہ یوپی کا ایس آئی آر ظاہر کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر کی اہلیت کے معیار ہی بدل ڈالے ہیں۔ ’6 یا اس سے زیادہ بچے‘ والے اصول پر سوال لازمی ہے کہ کمیشن نے یہ کیسے طے کیا کہ کسی کے کتنے بچے ہیں؟ فارم میں بچوں کی تعداد تو پوچھی ہی نہیں گئی تھی۔ صرف آدھار، ای پی آئی سی اور موبائل نمبر کے ساتھ ووٹر کے والد/سرپرست، والدہ اور شوہر کے نام پوچھے گئے تھے۔

میرٹھ جنوبی میں ایس آئی آر کے دوران بی ایل او رہنے والی ایک اسکول ٹیچر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ان کی نظر میں ایسے معاملات ہیں جن میں والدین اور ووٹرس کی عمر کے درمیان 15 سال سے کم فرق ہونے پر نام حذف کیے گئے۔ تاہم 6 یا اس سے زیادہ بچوں والی وجہ سے نام حذف ہونے کی انہیں کوئی اطلاع نہیں۔


9 برس تک یوپی کے چیف الیکٹورل آفیسر کے طور پر کام کر چکے ڈاکٹر نور محمد کہتے ہیں کہ ’’ایسا نہیں ہو سکتا! ہندوستان میں بالغ حق رائے دہی کا نظام نافذ ہے۔ گنتی کے دوران فراہم کردہ ڈاٹا کو محض ’منطقی تضادات‘ کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اہلیت طے کرنے کی واحد بنیاد کم از کم عمر کی شرط ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعداد یا دیگر تضادات والی بات بے معنی ہے۔

سینئر وکیل شیام دیوان نے 19 جنوری کو سپریم کورٹ میں دلیل دی کہ ’’ایسے معیار کی بنیاد پر ایسی پروفائلنگ، جسے (کمیشن نے) ابھی ابھی گھڑا ہے، نامناسب ہے۔ اس کے لیے قانونی منظوری کہاں ہے؟ ووٹر فہرست کا اولاد سے کیا تعلق؟‘‘ کمیشن کے وکیل کی دلیل تھی کہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے ریکارڈ میں ایسے ووٹرس کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ پائی گئی جن کے بچوں کی تعداد بھی غیر معمولی طور پر زیادہ تھی۔ 4.59 لاکھ ووٹرس کے 5 سے زیادہ بچے تھے، 2.06 لاکھ کے 6 سے زیادہ اور 8,682 کے 10 سے زیادہ۔ ’دی پرنٹ‘ کے مطابق کمیشن کا دعویٰ تو یہ بھی تھا کہ اسے 100 سے زیادہ بچے رکھنے والے ووٹرس بھی ملے!


ڈاکٹر نور کو یہ سب بے تکی بات لگتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پوری کارروائی ہی مشکوک تھی اور اسے دوبارہ کیا جانا چاہیے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’پہلے فارم-6 میں ووٹرس سے صرف اس کی عمر پوچھی جاتی تھی۔ 18 سال سے زیادہ عمر کا کوئی بھی شخص رجسٹر ہو سکتا تھا۔ ریکارڈ نہ ہونے پر خاندان یا گاؤں کے سربراہ کا بیان ہی کافی ہوتا تھا۔ اعتراض کی صورت میں جانچ ہوتی تھی۔ تنازعہ کی صورت میں ڈاکٹر کی رائے اہمیت رکھتی تھی۔ مجھے ایک ایسا معاملہ معلوم ہے جس میں 2 بہن بھائیوں کی عمر کا فرق صرف 3 ماہ درج تھا۔‘‘ اب جس استاد نے تاریخ پیدائش درج کی تھی، فطری بات ہے کہ اس کی توجہ کہیں اور رہی ہوگی۔ والدین یا دادا دادی کے ساتھ عمر کے فرق کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’’والد کے ساتھ 15 سال عمر کا فرق دکھانا اپنے آپ میں بے تکی بات ہے۔ کیا کمیشن نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اب کم عمری کی شادیاں نہیں ہوتیں؟ بیشتر معاملات میں والد اور دادا کی عمر بھی درست درج نہیں ہوتی۔‘‘

یوپی کے چیف الیکٹورل آفیسر نودیپ رنوا نے 10 اپریل کو ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مناسب عمل کے بغیر کوئی نام حذف نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اگر کوئی نام مسودہ فہرست میں تھا لیکن حتمی فہرست سے غائب ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ یا تو اس ووٹر کے خلاف فارم 7 جمع کیا گیا، یا ای آر او نے نوٹس پر سماعت کے بعد اسے حذف کیا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ 1.04 کروڑ ووٹرس اس لیے حذف کیے گئے کیونکہ وہ اپنی ’وراثت‘ میپ کرنے میں ناکام رہے، اور 2.22 کروڑ ووٹرس کو ’منطقی تضادات‘ کی وجہ سے نشان زد کیا گیا۔ 14 جنوری 2026 سے نوٹس بھیجے گئے اور 27 مارچ تک سماعت مکمل کر لی گئی۔


ایس آئی آر سے پہلے یوپی میں ووٹرس کی تعداد 15.44 کروڑ تھی۔ مسودہ فہرست میں یہ گھٹ کر 12.55 کروڑ رہ گئی اور حتمی ووٹر فہرست میں 13.39 کروڑ رہی۔ رنوا نے بتایا کہ 6 جنوری کے بعد 8,15,999 نام حذف کیے گئے۔ 3,50,436 افراد نوٹس کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے، 3,28,350 افراد غیر حاضر تھے یا کہیں اور منتقل ہو گئے تھے، 79,076 افراد کہیں اور رجسٹرڈ تھے اور 55,865 افراد وفات پا چکے تھے۔ 2,269 افراد کے نام اس لیے حذف کیے گئے کیونکہ وہ ہندوستانی شہری نہیں تھے یا ان کی عمر 18 سال سے کم تھی۔ انہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ مسودہ فہرست کے مرحلے میں نام کیسے حذف ہوئے۔ ایس آئی آر نے یوپی میں 2.05 کروڑ افراد کو حق رائے دہی سے محروم کر دیا ہے۔

مغربی بنگال کے برعکس، جہاں عدالتی افسران کو منطقی تضادات حل کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا اور ایک ٹریبونل اب بھی 27 لاکھ اپیلوں پر کام کر رہا ہے، یوپی میں حذف کیے گئے ووٹرس کے بارے میں کچھ بھی واضح نہیں ہے۔ رنوا نے کہا ہے کہ متاثرہ ووٹرس ’عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950‘ کے تحت اپنا نام حذف کیے جانے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ پہلی اپیل ووٹر فہرست شائع ہونے کے 15 دن کے اندر ضلع مجسٹریٹ کے سامنے دائر کی جا سکتی ہے، اور دوسری اپیل ضلع مجسٹریٹ کے حکم کے 30 دن کے اندر چیف الیکٹورل آفیسر کے سامنے۔ تاہم، اس سے زیادہ امید نہیں ہے۔

(نوٹ: یوپی کے چیف الیکٹورل آفیسر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ہمارے ای میل کا جواب موصول ہوتے ہی ہم اس رپورٹ کو اپڈیٹ کریں گے۔)

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔