شہروں کے مسلم ناموں کی جگہ اب ہندو نام کیوں؟
سول سوسائٹی کی طرف سے شدید تنقید کے باوجود حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے کئی شہروں کے نام بدل دیئے ہیں۔ ماہرہن کا کہنا ہے کہ اس مہم کے نتیجے میں سیکولر ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

گزشتہ ہفتے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے الہ آباد شہر کا نام بدل کر ’پریگ راج‘ اور فیض آباد کا نام بدل کر ایودھیا رکھ دینے کا اعلان کر دیا۔ ریاستی وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی، جس سے تعلق رکھنے والے نریندر مودی نئی دہلی میں مرکزی حکومت کے سربراہ ہیں، نے ان تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان شہروں کے نام بدل کر انہیں کوئی نئے نام نہیں دیئے گئے، بلکہ ان کے محض پرانے اور تاریخی نام بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کا موقف ہے کہ ان شہروں کے یہ نام جو اب بدل دیئے گئے ہیں، ان مسلمان حکمرانوں نے دیئے تھے، جو 1857ء میں برطانوی نوآبادیاتی دور کے آغاز تک حکمران رہے تھے۔ اسی تناظر میں فیض آباد کا نام ایودھیا رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کا کہنا تھا، ’’ایودھیہ ہمارے لیے عزت، فخر اور تکریم کی علامت ہے۔‘‘
مختلف شہروں، ہوائی اڈوں اور مشہور سڑکوں تک کے نام تبدیل کیے جانے کی یہ سوچ صرف اتر پردیش تک ہی محدود نہیں۔ ایسے متعدد فیصلے دیگر ریاستوں میں بھی کیے جا چکے ہیں، جہاں ریاستی حکومتی سربراہان کا تعلق بی جے پی سے ہے۔
اس کے علاوہ ریاست گجرات میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں ریاستی حکومت اس بارے میں غور کر رہی ہے کہ احمد آباد کا نام بدل کر ’کارنا وتی‘ رکھ دیا جائے۔ یہی نہیں بلکہ جنوبی ریاست تلنگانہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت ہی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان راجہ سنگھ نے بھی حال ہی میں یہ تجویز پیش کر دی تھی کہ ریاستی دارالحکومت حیدر آباد کا نام بدل کر بھاگیہ نگر رکھ دیا جائے۔
اسی طرح بہار میں بے جے پی کے ایک رکن پارلیمان گری راج کشور نے یہ مطالبہ کر دیا کہ بختیار پور کا نام بھی بدل دیا جائے۔ اسی طرح یہ کوششیں بھی کی جا چکی ہیں کہ دنیا بھر میں اپنے ہاں واقع تاج محل کی وجہ سے مشہور شہر آگرہ کا نام بھی بدل کر آگراوان یا اگراوال رکھ دیا جائے۔ مزید یہ کہ نئی دہلی میں حکمران ہندو قوم پرست جماعت ہی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان سنگیت سوم کی بھی یہ خواہش ہے کہ شہر مظفر نگر کا نام بھی بدل کر لکشمی نگر کر دیا جائے۔
اتفاق کی بات یہ ہے کہ بی جے پی اور اس کے رہنماؤں کی طرف سے جتنے بھی شہروں یا مشہور مقامات کے نام بدلنے کی تجاویز دی گئی ہیں یا اب تک ان پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے، وہ سب کے سب نام ایسے تھے، جن کا تعلق مسلم حکمرانوں کے دور اقتدار یا مسلم ثقافتی اور تاریخی میراث سے تھا۔
ایک ’سیاسی مہم‘
کئی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندو قوم پسند بھارتیہ جنتا پارٹی ان شہروں کے ناموں کی مسلم شناخت کو بدلنے کی کوششیں اس لیے کر رہی ہے کہ وہ ان قدامت پسند ہندو ووٹروں کی حمایت حاصل کر سکے، جنہیں وہ اگلے عام انتخابات میں کسی بھی طور کھونا نہیں چاہتی۔ ان ماہرین کے بقول یہ سب کچھ اب کافی تیز رفتاری سے اس لیے بھی کیا جا رہا ہے کہ اگلے عام انتخابات اگلے برس 2019 میں ہونا ہیں۔
ان ماہرین کی دلیل یہ ہے کہ دنیا بھر میں اکثر مختلف شہروں اور قصبوں کے ناموں کی تبدیلی کا عمل دیکھنے میں آتا ہے۔ لیکن جس طرح نریندر مودی کی جماعت بی جے پی یہ کام کر رہی ہے، وہ واضح طور پر ایک سیاسی مہم ہے اور اس کا مقصد کثیرالمذہبی اور کثیر النسلی شناخت سے نکال کر صرف ہندو رنگ دینا ہے۔
ان مبصرین کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے سیکولر ہندوستان کو اسی سوچ کے تحت ہندو بنایا یا ’ہندوایا‘ جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 13 Nov 2018, 6:18 AM