شہریت ترمیمی بل امتیازی سلوک کا آئینہ دار: جماعت اسلامی

جماعت اسلامی ہند حلقہ اترپردیش مشرق نے لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل کے پاس ہونے پر منگل کو اپنی تشویس کا اظہارکرتے ہوئے اسے آئین ہند کی روح کے خلاف قرار دیا ہے

تصویر یو این آئی
i
user

یو این آئی

google_preferred_badge

لکھنؤ: جماعت اسلامی ہند حلقہ اترپردیش مشرق نے لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل کے پاس ہونے پر منگل کو اپنی تشویس کا اظہارکرتے ہوئے اسے آئین ہند کی روح کے خلاف قرار دیا ہے۔

جماعت اسلامی حلقہ اترپردیش مشرق کے امیر ڈاکٹر ملک محمد فیصل فلاحی نے شہریت ترمیمی بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا آئین مذہب، ذات پات یا رنگ ونسل کی بنیاد پر اپنے شہریوں کے درمیان تفریق کی اجازت نہیں دیتا۔پارلیمنٹ سے منظور شدہ یہ بل آئین ہند کی روح کے عین مخالف ہے۔

پٹنہ میں سی اے بی کے خلاف مظاہرہ کرتے اے آئی ایس ایف کے کارکنان / تصویر یو این آئی
پٹنہ میں سی اے بی کے خلاف مظاہرہ کرتے اے آئی ایس ایف کے کارکنان / تصویر یو این آئی

ڈاکٹرملک نے کہا کہ یہ بل طبقات کے درمیان امتیازی سلوک کا آئینہ دار اور ایک تکثیری‘ سیکولر اور جمہوری قوم کی حیثیت سے ہندوستا ن کے اُس بنیادی نظریہ کے خلاف ہے جو ہمارے آئین میں درج ہے۔ اس بل سے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو زک پہنچے گا۔
لوک سبھا سے اس بل کے منظور ہوجانے کے بعد بھی امیر حلقہ نے امید کا اظہار کیا کہ وطن عزیز کی تمام سیکولر پارٹیاں پوری قوت سے راجیہ سبھا میں اس بل کے خلاف اپناحق استعمال کریں گی اور پاس نہ ہونے دیں گی۔

سی اے بی کے خلاف لکھنؤ میں کانگریس کا مظاہرہ / تصویر یو این آئی
سی اے بی کے خلاف لکھنؤ میں کانگریس کا مظاہرہ / تصویر یو این آئی

قابل ذکر ہے کہ جماعت کے ذمہ داران نےامن پسند تنظیموں وانصاف پسند سربراہوں کے ذمہ داران سے ملاقاتیں کر کے اس بل کے منفی نکات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ان سے پارلیمنٹ میں اس بل کی مخالفت میں ووٹ کرنے کی اپیل کی تھی تاکہ یہ بل قانون نہ بن سکے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔