وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجئے نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پی ایم مودی کو لکھا پہلا خط، کپاس پر لگنے والا ٹیکس ختم کرنے کی گزارش
پی ایم مودی کو لکھے گئے خط میں وجئے نے کہا ہے کہ کپاس اور دھاگے کی قیمتوں میں ہوئے شدید اضافہ نے کپڑا صنعت پر منحصر لاکھوں مزدوروں کی روزی روٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

تمل ناڈو کے نومنتخب وزیر اعلیٰ سی۔ جوزف وجئے یعنی تھلاپتی وجئے نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پی ایم مودی کو لکھے پہلے خط میں ایک اہم گزارش کی ہے۔ انھوں نے 4 مئی کو لکھے خط میں پی ایم مودی سے کپاس پر عائد 11 فیصد درآمدی محصول (ٹیکس) فوری طور پر ہٹانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب ریاست کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت سنگین بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ اگر اس معاملہ پر غور نہیں کیا گیا تو اس صنعت سے جڑے لوگوں کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔
وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے خط میں وجئے نے کہا کہ کپاس اور دھاگے کی قیمتوں میں ہوئے شدید اضافہ نے کپڑا تیار کرنے والوں پر زبردست دباؤ ڈال دیا ہے اور اس شعبہ پر منحصر لاکھوں مزدوروں کی روزی روٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تمل ناڈو کو ہندوستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل اور ملبوسات برآمد کرنے والی ریاست بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ صنعت لاکھوں لوگوں کو بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر روزگار فراہم کرتی ہے۔
وزیر اعلیٰ وجئے کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو کی ٹیکسٹائل و ملبوسات کی صنعت کپاس اور دھاگے کی قیمتوں میں ہوئے غیر معمولی اضافہ کے سبب ایک سنگین بحران سے گزر رہی ہے۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر گھریلو کپاس کی پیداوار میں کمی اور پورے ملک میں بڑھی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کے سبب ہوا ہے، جس سے سپلائی چین متاثر ہوا ہے اور ٹیکسٹائل تیار کرنے والوں پر اس کا اثر پڑا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق خام مال کی مسلسل فراہمی اب صرف درآمدات کے ذریعے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے، لیکن کپاس پر موجودہ 11 فیصد درآمدی محصول کے سبب درآمد مہنگی اور صنعت کے لیے غیر منافع بخش ثابت ہو رہی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ گزشتہ 2 مہینوں میں کپاس کی قیمت 54,700 روپے سے بڑھ کر 67,700 روپے فی کینڈی ہو گئی ہے، یعنی تقریباً 25 فیصد کا زبردست اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اسی مدت کے دوران دھاگے کی قیمت بھی 301 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 330 روپے فی کلوگرام ہو گئی ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
