چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو مشکلات کا سامنا، 20 سال پرانے رشوت معاملہ میں جانچ کو ملی منظوری

دہلی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کیرلم کے پی ڈبلیو ڈی وزیر رمیش چنیتھلا نے کہا کہ انہوں نے ایک دن پہلے گیانیش کمار کے خلاف تحقیقات کی اجازت دی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار</p></div>
i

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو ایک بار پھر مشکلات کا سامنا ہے۔ کیرلم میں ان کے خلاف تقریباً 20 سال پرانے مبینہ رشوت معاملے کی تحقیقات کا راستہ کھل گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے سابق سکریٹری برائے تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) گیانیش کمار کے خلاف بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے وجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو کو منظوری دے دی ہے۔ الزام ہے کہ 2006 میں کیرالہ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کے تحت سڑک کی تعمیر کا کام مکمل ہونے کے بعد ادائیگی جاری کرنے کے عوض 2 کروڑ روپے رشوت طلب کی گئی تھی۔

دہلی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران وزیر رمیش چنیتھلا نے کہا کہ انہوں نے ایک دن پہلے گیانیش کمار کے خلاف تحقیقات کی اجازت دی ہے۔ ان کے مطابق پی ڈبلیو ڈی کے سابق سکریٹری کے خلاف کئی طرح کے الزامات لگائے گئے تھے، جن کی وجلنس محکمہ تحقیقات کرنا چاہتا تھا۔ چنیتھلا نے بتایا کہ جب وجلنس نے حکومت سے باضابطہ منظوری طلب کی تو اس معاملے میں قانونی رائے لی گئی۔ قانونی مشورے میں واضح کیا گیا کہ شکایت کنندہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور مبینہ بدعنوان طرز عمل کی تحقیقات وجلنس محکمہ کر سکتا ہے۔ اسی قانونی رائے کی بنیاد پر انہوں نے انسداد بدعنوانی قانون کی دفعہ17 (اے) کے تحت تحقیقات کی منظوری دی۔


اس پورے تنازعہ کی جڑ کیرلم میں سڑک کی تعمیر سے متعلق ایک پروجیکٹ ہے۔ اس وقت گیانیش کمار ریاست کے محکمہ تعمیرات عامہ کے سکریٹری تھے۔ کیرالہ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کے تحت مین سنٹرل روڈ کے ایک بڑے حصے کی تعمیر اور بہتری کا کام ہندوستان اور ملیشیا کے مشترکہ ادارے پی اے ٹی آئی-بی ای ایل کو دیا گیا تھا۔ کولم کے ٹھیکیدار ساجن کا الزام ہے کہ پروجیکٹ کا کام مکمل ہونے کے بعد کمپنی کے تقریباً 17 کروڑ روپے کے بل انجینئروں نے منظور کر دیے تھے، لیکن ادائیگی کے چیک جاری نہیں کیے جا رہے تھے۔ ساجن کے مطابق، اس وقت کے پی ڈبلیو ڈی سکریٹری گیانیش کمار نے ادائیگی جاری کرنے کے عوض 2 کروڑ روپے رشوت طلب کی تھی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب گیانیش کمار سے جڑے اس پرانے معاملے کی تحقیقات کی بات سامنے آئی ہے۔ لی سی بین کی موت کے بعد 07-2006 کے آس پاس وجلنس نے اس معاملے کی چھان بین شروع کی تھی۔ لیکن گزشتہ تحقیقات میں الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد نہیں ملے تھے۔ اس کے بعد معاملہ آگے نہیں بڑھا اور تحقیقات بند کر دی گئی تھیں۔ بعد میں اس سے متعلق کچھ دیگر معاملات میں بھی عدالت میں ’مسٹیک آف فیکٹ‘ (حقائق کی غلطی) کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی گئی تھی۔ اب ٹھیکیدار ساجن نے نئی شکایت درج کراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ تحقیقات نامکمل تھیں۔ ان کا الزام ہے کہ اس وقت ان سے اور پروجیکٹ سے وابستہ دیگر لوگوں سے پوچھ گچھ نہیں کی گئی تھی، حالانکہ انہیں پورے واقعے کی معلومات تھیں۔


گیانیش کمار کے خلاف یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب ملک میں الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل کو لے کر سیاسی تنازعہ جاری ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی مسلسل الزام لگا رہے ہیں کہ ایس آئی آر کے ذریعہ ووٹر لسٹ سے لوگوں کے نام غلط طریقے سے حذف کیے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس عمل سے اہل ووٹرز کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ سے دہرے اندراج اور نااہل ووٹرز کے نام ہٹانا اس عمل کا حصہ ہے۔ اس معاملے پر یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد نے ایک بڑی ریلی منعقد کی تھی۔ راہل گاندھی سمیت اپوزیشن لیڈران نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف محاذ کھولا اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔