چھاتروں کی گونج: ’موگیمبو مودی ہندوستانی جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں‘، چنئی میں راہل گاندھی کا تلخ تبصرہ
راہل گاندھی نے چنئی میں نوجوانوں کے سامنے پی ایم مودی کا موازنہ مشہور فلم ’مسٹر انڈیا‘ کے منفی کردار موگیمبو سے کرتے ہوئے کہا کہ ’’موگیمبو مودی ہندوستانی جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں۔‘‘

’’مودی آپ کے تجسس کی بنیاد کو تباہ کر رہے ہیں۔ وہ ووٹ چوری اور الیکشن چوری کے ذریعہ براہ راست جمہوریت پر حملہ کر رہے ہیں۔ وہ آوازوں کو خاموش کر رہے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے آج نئی دہلی میں دیکھا کہ پورا شہر بند کردیا گیا، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، پولیس طلبا کی پٹائی کر رہی تھی اور بی جے پی نے طلبا کو پیٹنے کے لیے اپنے غنڈوں کو کھلا چھوڑ دیا۔ مودی یہ نہیں سمجھ رہے ہیں کہ اب ان کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔‘‘ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے یہ بیان آج تمل ناڈو کے تاریخی شہر چنئی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اس موقع پر انھوں نے پی ایم مودی کا موازنہ مشہور فلم ’مسٹر انڈیا‘ کے منفی کردار موگیمبو سے بھی کیا، اور الزام عائد کیا کہ ’’موگیمبو مودی ہندوستانی جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں۔‘‘
دراصل راہل گاندھی دہلی میں جین-زی طبقہ کے خلاف پولیس و انتظامیہ کی کارروائی سے سخت ناراض تھے، اس لیے انھوں نے چنئی میں صرف وہاں کے طلبا کے ایشوز پر بات نہیں کی، بلکہ ملک کے موجودہ حالات پر بھی کچھ اہم باتیں سامنے رکھیں۔ انھوں نے دہلی میں طلبا و نوجوانوں پر ہوئی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وزیر اعظم کو اس ’جرم‘ کی سزا دی جائے۔ چنئی کے اسٹیج سے دہلی میں زیر حراست اور سڑکوں پر جمع طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’تمام طلبا کے لیے میرا پیغام ہے کہ آپ کو کسی بات سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نریندر مودی، امت شاہ، موہن بھاگوت، اجیت ڈوول اور سازش کرنے والوں کے اس گروہ کو، جس نے ہندوستانی جمہوریت کو تباہ کیا ہے اور انتخابات میں چوری کرنے کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کر رہا ہے، انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘‘
اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے سبھی نوجوانوں و طلبا سے وعدہ کیا کہ وہ ہر حال میں نریندر مودی کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ پورے عزم کے ساتھ وہ کہتے ہیں کہ ’’اس دنیا کی کوئی طاقت مودی کو انصاف کا سامنا کرنے سے نہیں روک سکتی، اور میں آپ کو اس کی گارنٹی دیتا ہوں۔ میں دہلی کے تمام طلبا سے کہنا چاہتا ہوں کہ فکر نہ کریں۔ جن باتوں پر آپ یقین رکھتے ہیں، ان کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں اور سوال پوچھنا کبھی بند نہ کریں۔ ہم سب مل کر مودی کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکیں گے۔‘‘ انھوں نے اس فکر کا اظہار ضرور کیا کہ مودی حکومت طلبا کے اہم ایشوز پر بات نہیں کرتی، لیکن ساتھ ہی یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ جلد ہی اس حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا جائے گا، تاکہ جمہوریت کی حفاظت ہو اور طلبا کے ایشوز پر خاص توجہ دی جا سکے۔
چنئی کے ’آئس لینڈ گراؤنڈ‘ میں جمع نوجوانوں سے انھوں نے اپنی زبان اور ثقافت سے جڑے رہنے کی خصوصی اپیل کی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ تمل ناڈو کی ثقافت، زبان اور تاریخ پر حملہ کر رہے ہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے عزم ظاہر کیا کہ وہ تمل شناخت اور ثقافتی وراثت پر کسی بھی طرح کا حملہ برداشت نہیں کریں گے۔ ہندی کو تمل ناڈو پر تھوپنے کی جو کوشش ہو رہی ہے، اور یونیورسٹیوں میں آر ایس ایس سے جڑے لوگوں کو جس طرح تقرری دی جا رہی ہے، اسے کسی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی امیر تاجروں اور بین الاقوامی طاقتوں کے ہاتھوں مجبور ہو چکے ہیں، وہ ان طاقتوں کے کنٹرول میں ہیں۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’مودی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہندوستان میں عوام کے مزاج، طلبا کے رجحان اور اپوزیشن کی جانب سے کیے گئے کاموں کا اثر اب ان تک پہنچ رہا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
