نوجوان طالب علموں کی کردار سازی کی اسکیم

گاؤں پر مبنی 3.04 لاکھ یوتھ کلبوں کا موجودہ نیٹ ورک 52.11 لاکھ نوجوانوں کی رکنیت کے ساتھ ظاہر كرتا ہے كہ نوجوانوں کے درمیان اس کا دائرہ كتنا وسیع ہو رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

user

یو این آئی

امور نوجوانان اور کھیل كی وزارت کے تحت نوجوانوں کے امور کا محکمہ شخصیت سازی اور قوم سازی کے دوہرے مقاصد کی پیروی کرتا ہے جن كا تعلق نوجوانوں کی شخصیت کی نشوونما اور انہیں اپنی فیلڈ آرگنائزیشنز اور مختلف اسکیموں کے ذریعے قوم سازی کی مختلف سرگرمیوں میں شامل کرنے سے ہے۔ اس طرح ملک کے نوجوان طلباء سمیت نوجوانوں کی تعمیری اور تخلیقی توانائیوں کو بہترین طریقے سے استعمال کرنا ہے۔ مثال کے طور پر نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) رضاکارانہ کمیونٹی سروس کے ذریعے طالب علم نوجوانوں کی شخصیت اور کردار کی نشوونما میں مصروف ہے۔ این ایس ایس کا مقصد 'خدمت کے ذریعے تعلیم' ہے۔

نہرو یووا کیندر سنگٹھن اپنے مختلف پروگراموں اور مداخلتوں کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان كی شہری امور سے وابستگی کے لیے ان تک پہنچ رہا ہے۔ گاؤں پر مبنی 3.04 لاکھ یوتھ کلبوں کا موجودہ نیٹ ورک 52.11 لاکھ نوجوانوں کی رکنیت کے ساتھ ظاہر كرتا ہے كہ نوجوانوں کے درمیان اس کا دائرہ كتنا وسیع ہو رہا ہے۔


نوجوانوں کے امور کے محکمے کے تحت ایک خود مختار ادارہ میرا یووا بھارت (ایم وائی بھارت) کو فعال کرنے کا ایک وسیع طریقہ کار قائم کیا گیا ہے،جو ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ ہے۔ یہ نوجوانوں کی ترقی اور امرت کال کے دوران ’کارتویہ بودھ‘ اور ’سیوا بھاو‘ کے ذریعے نوجوانوں کی قیادت میں ترقی كے لیے ہے۔ یہ طریقہ کار نوجوانوں کو اپنی امنگوں کو عملی جامہ پہنانے اور 2047 تک امرت بھارت کی تعمیر کے مواقع تک مساوی رسائی فراہم کرے گا۔یہ پلیٹ فارم نوجوانوں کو سرکاری محکموں میں پروگراموں اور سیکھنے کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ اس طرح کی مصروفیت نوجوانوں کی مقامی کمیونٹی کے مسائل کے بارے میں سمجھ بوجھ کو گہرا کرے گی اور انہیں تعمیری حل سامنے لانے میں مدد فراہم کرے گی۔ اس طرح نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔

یہ اطلاع نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر نے آج راجیہ سبھا میں ڈاکٹر سمیر سنگھ سولنکی کے ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔