ایل پی جی سلنڈر بکنگ کے اصول میں تبدیلی، اب 25 دن سے پہلے نہیں ملے گی دوسری ریفل، ایران-امریکہ جنگ کا اثر!
یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ پہلے 55 دنوں میں سلنڈر کی بکنگ کرتے تھے، وہ خوف کے سبب 15-15 دنوں میں ہی بکنگ کرنے لگے ہیں۔ اس افرا تفری اور اسٹاک دبانے کی عادت کو روکنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات ہندوستان میں بھی اب واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد لوگوں پر دیگر چیزیں مہنگی ہونے کا خوف بھی طاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمع خوری اور کالابازاری کی خبریں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ کو پیش نظر رکھتے ہوئے سلنڈر کی جمع خوری روکنے کے لیے حکومت نے ایل پی جی بکنگ کا اصول سخت کر دیا ہے۔ اب ایک ریفل کے بعد دوسرا سلنڈر 25 دن کے بعد ہی بکنگ ہو سکے گا۔ ساتھ ہی ریفائنریوں کو پروڈکشن بڑھانے اور کمرشیل کی جگہ گھریلو سپلائی کو ترجیح دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ پہلے 55 دنوں میں سلنڈر بکنگ کرتے تھے، وہ خوف کے مارے اب 15-15 دنوں میں ہی بکنگ کرنے لگے ہیں۔ اس افرا تفری اور اسٹاک دبانے کی عادت کو روکنے کے لیے بکنگ کا فرق 21 دے سے بڑھا کر 25 دن کر دیا گیا ہے۔ یعنی اب آپ ایک سلنڈر لینے کے بعد 25 دن سے پہلے دوسری بکنگ نہیں کر پائیں گے۔
خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے درمیان حکومت نے راحت بھری خبر یہ ضرور دی ہے کہ ہندوستان کے پاس اسٹاک موجود ہے۔ لیکن جس طرح گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں اچانک 60 روپے کا اضافہ کیا گیا، اس نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے بھی اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ حالانکہ بتایا جا رہا ہے کہ جب تک خام تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل کے پاس نہیں جاتا، تب تک پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی امید کم ہے۔ حکومت کو بھروسہ ہے کہ خام تیل کی قیمت فی الحال 100 ڈالر فی بیرل کے قریب ہی رہے گی۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہندوستان نے اب آبنائے ہرمز کے علاوہ دوسرے راستوں سے بھی خام تیل منگوانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سے ہندوستان کو تیل کے اسٹاک میں کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ علاوہ ازیں ہندوستان ہوائی ایندھن کا بڑا پروڈیوسر اور برآمد کنندہ ہے۔ اس لیے طیاروں کے ایندھن کی کمی کو لے کر گھبرانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔