ہوائی کرایوں اور اضافی فیس پر لگے گی لگام؟ دو ہفتے میں نئے ضوابط جاری کرے گی مرکزی حکومت
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ہوائی کرایوں اور اضافی فیس کو منضبط کرنے کے ضوابط تیار ہیں اور دو ہفتوں میں جاری ہوں گے۔ عدالت نے اگلی سماعت 16 نومبر کو مقرر کی ہے

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے جمعہ کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ ایئرلائنز کے ذریعے وصول کیے جانے والے ہوائی کرایوں اور اضافی فیس کو منضبط کرنے کے لیے ضوابط تیار کر لیے گئے ہیں اور انہیں انتظامی منظوری بھی مل چکی ہے۔ حکومت نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ یہ ضوابط آئندہ دو ہفتوں کے اندر جاری کر دیے جائیں گے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 16 نومبر کو ہوگی۔
جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس آر مہادیون اور جسٹس اپریش کمار سنگھ پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے دلائل سننے کے بعد ہدایت دی کہ اگلی سماعت کے دوران جاری کردہ ضوابط عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔
یہ معاملہ سماجی کارکن ایس لکشمی نارائن کی جانب سے دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) سے متعلق ہے۔ عرضی میں شہری ہوابازی کے شعبے میں غیر شفاف، استحصالی اور الگورتھم پر مبنی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسافروں کے لیے مفت چیک اِن سامان کی مقررہ حد میں کمی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔
سپریم کورٹ ہوائی کرایوں میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ، خاص طور پر تہواروں، تعطیلات اور سفر کے مصروف اوقات میں ٹکٹوں کی قیمتوں میں ہونے والے بھاری اضافے اور ایئرلائنز کی جانب سے وصول کیے جانے والے اضافی چارجز سے متعلق خدشات پر غور کر رہی ہے۔
اس سے قبل ایک سماعت کے دوران جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے زبانی طور پر تبصرہ کیا تھا کہ نجی ایئرلائنز کے ذریعے وصول کیے جانے والے ہوائی کرایوں میں کچھ معقولیت ہونی چاہیے۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے ہوائی مسافروں کو راحت فراہم کرنے کی کوشش کرنے کو بھی کہا تھا۔
عدالت نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ہی دن، ایک ہی مقام کے لیے جانے والی پروازوں میں ایک ایئرلائن اکانومی کلاس کا کرایہ 8000 روپے وصول کرتی ہے، جب کہ دوسری ایئرلائن اسی سفر کے لیے 18000 روپے لیتی ہے۔ بنچ کے مطابق، کرایوں میں اس طرح کے فرق کے معاملے میں کچھ معقولیت ہونی چاہیے۔
مرکزی حکومت نے اس سے پہلے عدالت کو بتایا تھا کہ ایئرلائنز کے کرایوں اور اضافی فیس سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے ’بھارتی وایان ایکٹ، 2024‘ کے تحت ضوابط تیار کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ عرضی میں اٹھائے گئے معاملات، جن میں ہوائی کرایے، اچانک قیمتوں میں اضافہ اور اضافی سامان کی فیس شامل ہیں، پر اعلیٰ سطح پر غور کیا جا رہا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی حالات، تہواروں اور سفر کے مصروف اوقات میں ٹکٹوں کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے ان مسافروں کو شدید پریشانی ہوتی ہے جنہیں علاج، تعلیم یا روزگار جیسے ضروری کاموں کے لیے سفر کرنا پڑتا ہے۔
عرضی گزار نے مفت چیک اِن سامان کی حد 25 کلوگرام سے گھٹا کر 15 کلوگرام کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ مسافروں سے اب ان سہولتوں کے لیے بھی اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے جو پہلے ٹکٹ کی قیمت میں شامل ہوتی تھیں۔
عرضی میں ہوائی کرایوں کی نگرانی، ضوابط پر عمل درآمد اور مسافروں کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک جامع ریگولیٹری نظام قائم کرنے یا ہوابازی کے شعبے میں وصول کیے جانے والے کرایوں اور فیس کی نگرانی کے لیے ایک آزاد ادارہ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
