مرکز نے ’این سی پی آئی‘ کے اراکین پارلیمنٹ کو مانسون اجلاس سے قبل منعقدہ آل پارٹی میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی
مرکزی حکومت نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) چھوڑ کر نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں شامل ہونے والے 20 اراکین پارلیمنٹ کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

پارلیمنٹ کا مانسون سیشن پیر (20 جولائی) سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے سیشن کے آغاز سے ایک روز قبل اتوار (19 جولائی) کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں تمام سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈرز کا اجلاس طلب کیا ہے۔ حکومت نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) چھوڑ کر نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں شامل ہونے والے 20 اراکین پارلیمنٹ کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور اور اقلیتی امور کرن رجیجو نے ہفتہ کو ترنمول کانگریس کے باغی اراکین پارلیمنٹ کے گروپ کے رہنما سدیپ بندوپادھیائے کے نام ایک خط بھیجا ہے۔ خط میں مرکزی وزیر نے کہا کہ ’’سدیپ بندوپادھیائے جی، حال ہی میں آپ 19 دیگر اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں شامل ہوئے ہیں اور آپ نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا جی سے اپنی پارٹی کو تسلیم کرنے کی درخواست بھی کی ہے، جو اس وقت ان کے زیر غور ہے۔‘‘
کرن رجیجو خط میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ میں آپ کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں سیاسی پارٹیوں کے فلور لیڈرز کے اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کر رہا ہوں۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون سیشن کے دوران دونوں ایوانوں کے سامنے آنے والے اہم مسائل اور ممکنہ پارلیمانی موضوعات پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔‘‘
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ ’’میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائیوں کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے آپ کا تعاون چاہتا ہوں۔ یہ اجلاس اتوار (19 جولائی، 2026) کو صبح 11 بجے نئی دہلی میں واقع پارلیمنٹ ہاؤس اینکسی کے مین کمیٹی روم میں منعقد کیا جائے گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میں اس اہم اجلاس میں آپ کی شرکت کا منتظر ہوں۔ اس کے ساتھ ہی، آپ کی پارٹی کی نامزد چیف وہپ ڈاکٹر کاکولی داس دستیدار سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ وہ بھی اس اجلاس میں شرکت کریں۔‘‘
