سی بی آئی کی 2929 کروڑ کے بینک دھوکہ دہی کیس میں انل امبانی سے 8 گھنٹے پوچھ گچھ
سی بی آئی نے 2929 کروڑ روپے کے بینک دھوکہ دہی معاملے میں انل امبانی سے تقریباً آٹھ گھنٹے پوچھ گچھ کی۔ یہ کیس ایس بی آئی کی شکایت پر درج ہوا تھا اور مزید تفتیش جاری ہے

نئی دہلی: ملک کے معروف صنعت کار انل امبانی سے 2929 کروڑ روپے کے مبینہ بینک دھوکہ دہی کیس میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے طویل پوچھ گچھ کی ہے۔ ذرائع کے مطابق انل امبانی جمعرات کے روز دہلی میں واقع سی بی آئی کے ہیڈکوارٹر پہنچے، جہاں ان سے تقریباً آٹھ گھنٹے تک مختلف پہلوؤں پر سوالات کیے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہیں مزید جانچ کے لیے اگلے دن یعنی آج بھی حاضر ہونے کو کہا گیا ہے۔
یہ معاملہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے 21 اگست 2025 کو ریلائنس کمیونیکیشنز، انل امبانی اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا۔ الزام ہے کہ کمپنی نے بینکوں سے حاصل کیے گئے قرض میں بے ضابطگیاں کیں اور فنڈز کا غلط استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ایس بی آئی کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
جانچ ایجنسی کے مطابق 2013 سے 2017 کے درمیان کمپنی نے گروپ کی دیگر کمپنیوں کے ساتھ پیچیدہ مالی لین دین کے ذریعے قرض کی رقم کو دوسری جگہ منتقل کیا۔ یہ بات فرانزک آڈٹ رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جسے اس کیس میں اہم ثبوت مانا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں 17 سرکاری بینکوں کی مجموعی نمائش تقریباً 19,694 کروڑ روپے رہی، جس میں سب سے زیادہ نقصان ایس بی آئی کو ہوا۔ اس کے علاوہ پنجاب نیشنل بینک، بینک آف انڈیا، یونین بینک آف انڈیا، یوکو بینک، سینٹرل بینک آف انڈیا اور آئی ڈی بی آئی بینک سمیت کئی دیگر بینک بھی متاثر ہوئے ہیں اور انہوں نے شکایات درج کرائی ہیں۔
سی بی آئی اس سے قبل اگست 2025 میں ممبئی میں ریلائنس کمیونیکیشنز کے دفاتر اور انل امبانی کی رہائش گاہ پر چھاپہ بھی مار چکی ہے، جہاں سے اہم دستاویزات ضبط کیے گئے تھے۔ انہی دستاویزات کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
انل امبانی کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ تفتیشی ایجنسیوں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور طلب کیے جانے پر پیش ہوتے رہیں گے۔ ادھر سی بی آئی ایک اور 57.47 کروڑ روپے کے مبینہ دھوکہ دہی کیس کی بھی جانچ کر رہی ہے، جس میں ریلائنس کمرشل فنانس لمیٹڈ اور اس کے افسران پر فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات ہیں۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ مختلف بینکوں سے موصول شکایات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ جاری ہے اور آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔