بینک دھوکہ دہی کیس: سی بی آئی نے ریلائنس کمیونیکیشنز کے دو عہدیداروں کو کیا گرفتار
سی بی آئی نے ریلائنس کمیونیکیشنز سے جڑے بینک دھوکہ دہی کیس میں دو سینئر عہدیداروں کو گرفتار کیا۔ معاملہ ہزاروں کروڑ روپے کے نقصان، قرض کے غلط استعمال اور شیل کمپنیوں کے ذریعے رقوم گھمانے سے متعلق ہے

نئی دہلی: مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) نے ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ سے جڑے ایک بڑے بینک دھوکہ دہی کیس میں کمپنی کے دو سینئر عہدیداروں، ڈی وشوناتھ اور انیل کالیا، کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب جانچ ایجنسی نے مالی بے ضابطگیوں اور قرض کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق اہم شواہد اکٹھے کیے۔
سی بی آئی کے مطابق یہ مقدمہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ کمپنی اور اس سے وابستہ دیگر اداروں کو بینک کی جانب سے بھاری قرض سہولیات فراہم کی گئیں، جنہیں طے شدہ مقاصد کے بجائے دیگر راستوں سے استعمال کیا گیا۔ ابتدائی جانچ میں انکشاف ہوا کہ اس مبینہ دھوکہ دہی کے باعث اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو تقریباً 2929.05 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جبکہ مجموعی طور پر 17 سرکاری بینکوں اور مالیاتی اداروں کو قریب 19,694.33 کروڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ کمپنی کے اندر بعض عہدیداروں نے ملی بھگت کے ذریعے مالی لین دین میں گڑبڑ کی۔ الزام ہے کہ کئی نام نہاد شیل کمپنیوں کے ذریعے رقوم کو ادھر سے ادھر منتقل کیا گیا تاکہ اصل استعمال کو چھپایا جا سکے۔ مزید برآں گروپ کی دیگر اکائیوں کے ساتھ فرضی خدمات کے نام پر لین دین کیے گئے، جن کے لیے ڈسکاؤنٹڈ لیٹر آف کریڈٹ استعمال کیے گئے۔ بعد میں یہ لیٹر آف کریڈٹ ادائیگی کے مرحلے میں ناکام ہو گئے، جس کے نتیجے میں بینکوں پر اضافی مالی بوجھ پڑا۔
سی بی آئی کے مطابق ڈی وشوناتھ کمپنی کے بینکاری اور مالیاتی امور کے ذمہ دار تھے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے قرض کی منظوری اور اس کے استعمال کے معاملات میں بینکوں کے ساتھ رابطہ کاری کی۔ انیل کالیا پر الزام ہے کہ انہوں نے اس عمل میں معاونت کی اور کمپنی کے مالیاتی نظم و نسق، ادائیگیوں اور فنڈز کے استعمال میں اہم کردار ادا کیا۔
دونوں ملزمان کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا اور مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ سی بی آئی نے کہا ہے کہ کیس کی تفتیش جاری ہے اور دیگر پہلوؤں کی بھی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔ ایجنسی کے مطابق حالیہ مہینوں میں بینکوں اور لائف انشورنس کارپوریشن کی شکایات کی بنیاد پر انیل امبانی گروپ سے متعلق کئی مقدمات درج کیے گئے ہیں، جو بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔