سونم وانگچک کے خلاف کارروائی غلط، حکومت کو مطالبات سننے چاہئیں: پرینکا چترویدی
پرینکا چترویدی نے سونم وانگچک کی این ایس اے کے تحت گرفتاری کو غلط قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لداخ کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے اور عوامی اعتماد بحال کرے

نئی دہلی: شیوسینا (یو بی ٹی) کی راجیہ سبھا رکن پرینکا چترویدی نے لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کے خلاف درج مقدمے اور انہیں قومی سلامتی قانون کے تحت حراست میں لیے جانے پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے اس کارروائی کو نامناسب قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وانگچک کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے۔
آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا چترویدی نے کہا کہ سونم وانگچک ایک ذمہ دار اور باعزم کارکن ہیں، جنہوں نے ہمیشہ ماحولیات اور عوامی مفادات کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ ان کے مطابق، ایسے شخص کو بغیر کسی واضح غلطی کے جیل میں ڈالنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائی کے بعد بھی وانگچک اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، جو کسی تصادم کے لیے نہیں بلکہ وعدوں کی تکمیل کے لیے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب دفعہ 370 کو ختم کیا گیا تھا تو وانگچک نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا تھا، لیکن اب اگر وہ اپنی بات رکھ رہے ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں حکومتی سطح پر کمی رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کو چاہیے کہ وہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے پر غور کرے اور ساتھ ہی لداخ کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے لے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سونم وانگچک کو جودھپور سینٹرل جیل سے رہائی ملی ہے۔ تقریباً چھ ماہ تک حراست میں رکھنے کے بعد حکومت نے ان کی نظر بندی کو منسوخ کر دیا، جس کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔
اسی دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پردیوت بوردولوئی کے استعفیٰ کے معاملے پر بھی سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ پرینکا چترویدی نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو مسلسل توڑا جا رہا ہے اور انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل کیا جا رہا ہے، جو جمہوری نظام کے لیے مناسب نہیں ہے۔
انہوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر طنز کرتے ہوئے انہیں “امپورٹڈ سی ایم” قرار دیا۔ ساتھ ہی یکساں سول کوڈ کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس جیسے اہم قانون کو نافذ کرنے سے پہلے تمام فریقین کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے، تاکہ اس کا حقیقی فائدہ عوام خصوصاً خواتین تک پہنچ سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔