مرکزی پولیس فورسز کے نئے بل پر اپوزیشن کا سخت اعتراض، اجے ماکن نے کہا- ’آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف‘
راجیہ سبھا میں سی اے پی ایف بل پر اپوزیشن نے شدید مخالفت کی۔ اجے ماکن نے اسے آئینی اصولوں کے خلاف قرار دیا، جبکہ دیگر رہنماؤں نے بھی عدلیہ اور وفاقی ڈھانچے پر سوال اٹھائے

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں مرکزی مسلح پولیس فورسز (جنرل ایڈمنسٹریشن) بل 2026 پیش کیے جانے کے بعد اپوزیشن نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور حکومت پر عدلیہ کے اختیارات کو کمزور کرنے اور آئینی توازن بگاڑنے کا الزام لگایا۔ کانگریس کے رہنما اجے ماکن نے بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف قرار دیا اور اپنے خطاب میں متعدد عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا۔
اجے ماکن نے راجیہ سبھا میں اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام عدلیہ کی حدود میں مداخلت اور جمہوریت کے ستونوں کے درمیان توازن کو بگاڑنے کی ایک سنگین کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں جی جے سنگھ کیس (دہلی ہائی کورٹ)، 2019 میں ہرنندا کیس (سپریم کورٹ)، 2020 میں تنو کمار کیس (ہائی کورٹ)، 2025 میں سنجے پرکاش کیس (سپریم کورٹ)، اسی سال اکتوبر میں سنجے پرکاش ریویو (سپریم کورٹ) اور 2026 جنوری میں سنجے پرکاش کیس کے فیصلوں میں بار بار یہ کہا گیا کہ متعلقہ افسران کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور یہ معاملہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 16 کی خلاف ورزی سے جڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بل کی دفعہ 3 میں ’نوٹ وِد اسٹینڈنگ‘ جیسے الفاظ استعمال کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی قانون یا عدالتی فیصلے کے باوجود اس بل کو فوقیت حاصل ہوگی، جو کہ غیر قانونی ہے اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے، اسی لیے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
اجے ماکن نے مزید کہا کہ مالی یادداشت میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بل پر کوئی خرچ نہیں آئے گا، جو درست نہیں ہے۔ انہوں نے اپریل 2019 کے ایک نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں مالی بوجھ ضرور پڑے گا اور حکومت اس پہلو کو نظر انداز کر رہی ہے۔
دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی بل پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن نے خاموش رہ کر اپنا احتجاج درج کیا اور اسے وفاق مخالف قرار دیا۔ کانگریس کے ویویک تنکھا نے کہا کہ یہ بل ہزاروں افسران کے آئینی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔ ڈی ایم کے کے تروچی سیوا نے خدشہ ظاہر کیا کہ پارلیمنٹ بار بار سپریم کورٹ کے فیصلوں کو غیر مؤثر بنا رہی ہے، جس سے اختیارات کی تقسیم پر سوال اٹھتا ہے۔ سی پی آئی ایم کے جان بریٹاس نے بھی بل کو قانونی دائرہ اختیار کے حوالے سے کمزور قرار دیا۔
اپوزیشن نے یہ بھی الزام لگایا کہ بل کے ذریعے عدالتی فیصلوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس سے جمہوری اداروں کے درمیان توازن متاثر ہوگا، جبکہ مالی بوجھ کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔
قبل ازیں، وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے ایوان میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد مختلف مرکزی مسلح پولیس فورسز کے لیے ایک متحد قانونی ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بل سے فورسز کے اختیارات یا نظام حکمرانی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بھی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہے اور اس ذمہ داری سے پیچھے ہٹنا مناسب نہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔