رام لیلا میدان ریلی میں کیا گیانیش کمار کے بعد سب سے بڑا مدااعظم خان کی گرفتاری بن سکتا ہے؟

جہاں بی جے پی نے اعظم خان کی گرفتاری کو انصاف بتایاہے، وہیں ایس پی نے اسے ایجنسیوں کا غلط استعمال قرار دیا اور کانگریس نے اسے سیاسی سازش قرار دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے گرفتار کر لیا ہے۔ ای ڈی نے اعظم خان کو جوہر یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اعظم کی گرفتاری نے سیاسی رد عمل کو جنم دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی، سماج وادی پارٹی اور کانگریس سمیت کئی پارٹیوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں بی جے پی نے اسے انصاف بتایا، وہیں ایس پی نے اسے ایجنسیوں کا غلط استعمال قرار دیا۔ کانگریس نے اسے سیاسی سازش قرار دیا۔

اس دوران سبھی کی نظریں دہلی کے رام لیلا میدان کی ریلی پر لگی ہوئی ہیں۔ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو بھی ریلی میں شرکت کریں گے۔ ایس پی اور اعظم خان کے حامیوں کو امید ہے کہ یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ رام لیلا میدان میں اعظم خان کا مسئلہ اٹھا سکتے ہیں۔ ای ڈی کے ذریعہ اعظم خان کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انڈیا  بلاک کے رہنما ، ایس آئی آر، اور الیکشن کمیشن آف انڈیا  کےچیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کر رہے ہیں اور جس کے لئے آج رام لیلا میدان میں ایک ریلی طے ہے۔


اعظم خان کو الہ آباد ہائی کورٹ نے دو پین کارڈ کیسوں میں ان کی سزا کو معطل کرنے اور رام پور جیل سے رہا کرنے کے بعد ای ڈی نے گرفتار کیا تھا۔ رام پور جیل سے رہائی کے فوراً بعد ای ڈی نے انہیں جیل کے مین گیٹ سے گرفتار کر لیا۔

واضح رہے کہ اکھلیش یادو نے تقریباً ایک ہفتہ قبل اعظم خان سے رام پور جیل میں ملاقات کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اکھلیش اعظم خان کی گرفتاری کا مسئلہ اٹھاتے ہیں تو کانگریس، ٹی ایم سی اور شیوسینا (یوبی ٹی) جیسی دیگر پارٹیوں کو اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ یعنی رام لیلا میدان کی ریلی میں گیانیش کمار کے بعد اعظم خان کی گرفتاری سب سے بڑا مدا رہ سکتا ہے۔