استعفیٰ نہیں دینے پر ممتا بنرجی کے خلاف ہوسکتا ہے کیس؟ جانیں کیا کہتے ہیں ماہرین قانون

ماہرین قانون کے مطابق انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعلیٰ کا عہدے پر رہنا صرف ایک رسم ادائیگی ہو سکتی ہے۔ نئی حکومت کی تشکیل میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہو سکتا۔

<div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی فائل فوٹو، یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے استعفیٰ نہ دینے والے بیان نے سیاسی کھلبلی مچا دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئینی بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔ دراصل مغربی بنگال میں انتخانی نتائج میں بی جے پی کو واضح اکثریت ملی ہے جبکہ ترنمول کانگریس اکثریت حاصل کرنے میں کافی پیچھے رہ گئی ہے۔ باوجود اس کے 15 برسوں سے ریاست کی وزیر اعلیٰ رہیں ممتا بنرجی نے صاف طور پر کہا ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں عہدے سے دستبردار نہیں ہوں گی۔ ایسے حالات میں اب سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا کوئی وزیراعلیٰ ہارنے کے بعد بھی عہدے پر برقرار رہ سکتا ہے اور اگر استعفیٰ نہیں دیتا ہے تو اس پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے؟

قانون کے مطابق اگر ممتا بنرجی استعفیٰ نہیں دیتی ہیں تو ان پر کیس ہو سکتا ہے۔ آئین ہند کے مطابق وزیر اعلیٰ اور ان کی وزرا کونسل گورنر کے ’رحم و کرم‘ پر عہدے پر رہتے ہیں۔ یعنی جب تک گورنر کو بھروسہ ہے اور اسمبلی میں اکثریت ہے تب ہی حکومت چل سکتی ہے۔ جیسے ہی اکثریت ختم ہوتی ہے، وزیر اعلیٰ کے پاس عہدے پر برقرار رہنے کی قانونی بنیاد بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق انتخابات میں شکست کے بعد وزیر اعلیٰ کا عہدے پر رہنا صرف ایک رسم ادائیگی ہو سکتی ہے۔ جب تک کوئی نئی حکومت کی تشکیل نہیں ہو جاتی اسے کیئر ٹیکر کردار مانا جاتا ہے جس میں بڑے پالیسی ساز فیصلے نہیں لئے جا سکتے ہیں۔


ماہرین کے مطابق اگر کوئی وزیر اعلیٰ مستعفی ہونے سے انکار کرتا ہے تو گورنر کے پاس کئی متبادل ہوتے ہیں۔ وہ وزیر اعلیٰ کو عہدے سے برطرف کر سکتے ہیں، اکثریت یافتہ پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دے سکتے ہیں یا پھر ضرورت پڑنے پر اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ اگر صورتحال زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے اور حکومت سازی میں رکاوٹ ہوتی ہے تو صدر راج کی سفارش بھی کی جا سکتی ہے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ صرف استعفیٰ نہ دینے پر براہ راست کوئی مجرمانہ کیس نہیں بنتا ہے۔ یہ معاملہ زیادہ آئینی اور سیاسی عمل سے وابستہ ہے۔ حالانکہ اگر کوئی وزیر اعلیٰ آئینی ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلے لینے لگے تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے اور مرکزی حکومت یا گورنر مداخلت کر سکتے ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔