مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں انتخابی مہم ختم، 23 اپریل کو ووٹنگ، حفاظت کے پختہ انتظامات

مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں 23 اپریل کی ووٹنگ سے قبل انتخابی مہم ختم ہو گئی۔ دونوں ریاستوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں 23 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ سے 48 گھنٹے قبل منگل کی شام انتخابی مہم اختتام پذیر ہو گئی۔ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق مہم کے ختم ہوتے ہی اب کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کو جلسہ، ریلی یا عوامی خطاب کی اجازت نہیں ہوگی۔ دونوں ریاستوں میں آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، جب کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی قریبی نگرانی رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی طرح کی گمراہ کن یا اشتعال انگیز سرگرمی کو روکا جا سکے۔

مغربی بنگال میں اس بار انتخابی عمل دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 152 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، جس میں مجموعی طور پر 1478 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اس مرحلے میں تقریباً تین کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد ہے، جس کے پیش نظر سیاسی تجزیہ کار اس بار خواتین کے کردار کو نہایت اہم قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ریزرویشن سے متعلق جاری مباحث کے تناظر میں۔


ریاست کے جن علاقوں میں پہلے مرحلے میں ووٹنگ ہوگی، ان میں شمالی بنگال، جنوبی بنگال اور جنگل محل کے متعدد اضلاع شامل ہیں۔ ان اضلاع میں مرشد آباد، کوچ بہار، جلپائی گڑی، علی پور دوار، کالیمپونگ، دارجلنگ، اتر دیناجپور، دکشن دیناجپور، مالدہ، بیر بھوم، مغربی بردھمان، پورب میدنی پور، پشچم میدنی پور، جھارگرام، پرولیا اور بانکوڑا شامل ہیں، جہاں انتخابی سرگرمیاں عروج پر رہی ہیں۔

دوسری جانب تمل ناڈو میں تمام 234 اسمبلی نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں 23 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ اس ریاست میں کل 4023 امیدوار میدان میں ہیں، جب کہ تقریباً 5.73 کروڑ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ انتخابی ماحول میں اس بار ایک نئی سیاسی جماعت بھی خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جو اداکار سے سیاست داں بننے والے وجئے کی قیادت میں میدان میں اتری ہے۔ کئی حلقوں میں ان کی جماعت کو عوامی حمایت ملنے کی اطلاعات ہیں، جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔


انتخابی مہم کے دوران دونوں ریاستوں میں بڑے سیاسی لیڈروں نے بھرپور سرگرمی دکھائی اور ووٹروں کو متاثر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ تاہم اب مہم کے خاتمے کے بعد سارا زور ووٹنگ کے دن پر مرکوز ہوگیا ہے، جہاں انتظامیہ کی اصل آزمائش شفاف اور پرامن انتخابی عمل کو یقینی بنانا ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔