مغربی بنگال کی یونیورسٹیوں میں طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے پر کلکتہ ہائی کورٹ سخت
حال ہی میں کولکاتہ کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) میں بیرونی افراد کی جانب سے حملے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

کلکتہ ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے پیر (5 اکتوبر) کو مغربی بنگال حکومت کو ہدایت دی کہ وہ پوری ریاست میں یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کی حفاظت یقینی بنائے۔ پوری ریاست میں یونیورسٹی کیمپس کے اندر سکیورٹی کے مناسب انتظامات کرنے کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر عدالت میں سماعت ہوئی۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رویندر وٹھل راؤ گھگے اور جسٹس اوم نارائن رائے کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ یونیورسٹی کیمپس میں صرف سی سی ٹی وی کیمرے لگانا ہی کافی نہیں ہے۔ بنچ نے کہا کہ ریاستی حکومت کو کیمپس میں طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
کئی یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس میں کیے گئے سیکورٹی انتظامات کے بارے میں ہائی کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ زیادہ تر رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کیمپس کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ ان رپورٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈویژن بنچ نے کہا کہ کیمپس میں طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے صرف سی سی ٹی وی لگانا کافی نہیں ہے۔ ڈویژن بنچ نے یہ بھی کہا کہ کیمپس میں طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے کے علاوہ یونیورسٹی کیمپس میں مناسب تعلیمی ماحول برقرار رکھنے کے لیے بھی فعال اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
بنچ نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کو کیمپس میں کسی بھی طرح کی افراتفری نہ ہونے دینے کے معاملے میں سختی برتنی چاہیے۔ اس سلسلے میں عدالت نے ڈائمنڈ ہاربر ویمن یونیورسٹی میں سیکورٹی پر خصوصی توجہ دینے کو کہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہاں سیکورٹی انتظامات میں کوئی لاپرواہی نہیں ہونی چاہیے۔ پیر کو ڈویژن بنچ نے دوسری یونیورسٹیوں سے سیکورٹی سے متعلق رپورٹیں طلب کی تھیں، جو انہوں نے اب تک عدالت میں جمع نہیں کرائی ہیں۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت 10 دسمبر کو ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں کولکاتہ کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) میں بیرونی افراد کی جانب سے حملے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ صرف ایک ہفتے کے اندر ایس آر ایف ٹی آئی کیمپس میں کئی بار تصادم ہوئے۔ اس سے قبل معروف جادَوپور یونیورسٹی (جے یو) کیمپس میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے درمیان تصادم ہوئے تھے۔
