مذہبی جذبات مجروح کرنے کے معاملے میں مہوا موئترا کو ہائی کورٹ سے راحت، سخت کارروائی پر 29 جنوری تک گرفتاری سمیت روک
کلکتہ ہائی کورٹ نے مہوا موئترا کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے معاملے میں گرفتاری سمیت سخت کارروائی پر عبوری روک 29 جنوری 2027 تک بڑھا دی۔ تحقیقات جاری رہیں گی، اگلی سماعت 13 جنوری کو ہوگی

کولکاتا: کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کو مبینہ طور پر ایک مخصوص برادری کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے معاملے میں راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف گرفتاری سمیت کسی بھی سخت کارروائی سے حاصل عبوری تحفظ کی مدت 29 جنوری 2027 تک بڑھا دی ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی واضح کیا کہ معاملے کی تحقیقات قانون کے مطابق جاری رہیں گی۔
جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی یک رکنی بنچ نے جمعرات کو معاملے کی سماعت کرتے ہوئے مہوا موئترا کو دی گئی عبوری راحت میں توسیع کی۔ عدالت نے انہیں ہدایت دی کہ وہ تحقیقات کے دوران تفتیشی افسر کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ معاملے کی اگلی سماعت 13 جنوری 2027 کو مقرر کی گئی ہے۔
یہ معاملہ رواں سال مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد مہوا موئترا کے خلاف درج کرائی گئی ایک شکایت سے متعلق ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ 15 جون کو فیس بک پر لائیو نشریات کے دوران مہوا موئترا نے ایسے تبصرے کیے جن سے ایک مخصوص برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ شکایت کے بعد نادیہ ضلع میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کریم پور منڈل-4 کے بلاک جنرل سکریٹری ہیراک بھٹاچاریہ نے ہوگلبیریا پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کرائی، جس کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کیں۔
مہوا موئترا نے جولائی میں کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ہوگلبیریا پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے کی کارروائی کو چیلنج کیا تھا۔ 21 جولائی کو جسٹس بھٹاچاریہ کی بنچ نے انہیں عبوری تحفظ دیتے ہوئے گرفتاری سمیت سخت کارروائی پر 5 اکتوبر تک روک لگائی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہیں 14 اگست کو تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوکر پوچھ گچھ میں تعاون کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
جمعرات کی سماعت میں مغربی بنگال کے ایڈووکیٹ جنرل سورجیت ناتھ مترا نے عدالت کے سامنے ایک رپورٹ پیش کی۔ اس میں بتایا گیا کہ مہوا موئترا 14 اگست کو نادیہ ضلع کے ہوگلبیریا پولیس اسٹیشن میں تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوئی تھیں اور ان سے پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے تھے۔ ریاست کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ معاملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
مہوا موئترا کے وکیل نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ 14 اگست کو پولیس اسٹیشن میں پیشی کے دوران ان پر انڈے نہیں پھینکے گئے تھے۔ وکیل نے اس سے قبل الزام عائد کیا تھا کہ کرشن نگر لوک سبھا حلقے کے دورے کے دوران مہوا موئترا کو انڈے پھینکے جانے سمیت دیگر واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ایک الگ معاملے میں عدالت نے مہوا موئترا کے اپنے پارلیمانی حلقے کے دورے کے دوران پولیس سکیورٹی بھی 30 نومبر تک برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سابقہ ہدایت کے مطابق ان کے حلقے میں دورے یا سفر کے دوران دو پولیس اہلکار ان کے ساتھ رہیں گے۔
انڈے پھینکے جانے اور مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے مناسب کارروائی نہ کیے جانے سے متعلق معاملہ اب چیف جسٹس کی سربراہی والی ڈویژن بنچ کے سامنے ہے۔ جسٹس بھٹاچاریہ نے اس معاملے کی مزید سماعت سے خود کو الگ کرلیا ہے، جبکہ مذہبی جذبات مجروح کرنے سے متعلق مقدمے میں مہوا موئترا کو 29 جنوری 2027 تک عبوری تحفظ حاصل رہے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
