لکھنؤ پولیس کی بربریت: اردو اخبار کے ایڈیٹر علیم اللہ خان کی آپ بیتی

لکھنؤ پولیس نے اردو روزنامہ ’قومی رفتار‘ کے ایڈیٹر ڈاکٹر علیم اللہ خان پر فساد کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا

تصویر بشکریہ نیوز لانڈری
تصویر بشکریہ نیوز لانڈری
user

قومی آوازبیورو

18 دسمبر کی رات آٹھ بجے کا وقت تھا۔ میرا کنبہ کھانا کھانے کی تیاری کر رہا تھا۔ تبھی کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں گھر پر نہیں تھا۔ میرے بیٹے غزالی حسن خان نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ چار پانچ پولیس والے سامنے کھڑے تھے۔ انہوں نے میرے بارے میں پوچھا تو بیٹے نے بتایا کہ ابو گھر پر نہیں ہیں۔ میں اگلے دن لکھنؤ میں ہونے والے احتجاج کی تیاری کر رہا تھا۔ میرے دوست توصیف قاضی بھی میرے ساتھ تھے۔

پولیس والوں نے بیٹے سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک صحافی ہیں ذرا ان سے بات کرنی ہے۔ انہوں نے میرے فون پر فون ملا کر کہا ذرا گھر آئیے... آپ سے بات کرنی ہے۔ میں فوراً گھر پہنچا تو کہنے لگے کہ آپ کو تھوڑی دیر کے لئے پولیس اسٹیشن چلنا ہوگا۔ چائے پئیں گے اور دو منٹ بات کریں گے۔ ہم نے اپنی گاڑی ان کی گاڑی کے پیچھے لگا دی اور گھر سے ہم لوگ علی گنج تھانے پہنچ گئے۔


وہاں ایس سی او فرید احمد نے پوچھا بھائی آپ لوگ کل کیا کر رہے ہیں؟ ہم نے کہا کہ کچھ نہیں، ایک پرامن احتجاج کی کال دی ہے۔ وہ کہنے لگے کہ پرامن احتجاج نہیں بلکہ آپ لوگ فساد بھڑکانے کی سازش کر رہے ہیں اور آپ اس سازش کے ماسٹر مائنڈ ہیں! ہم نے کہا کہ اس میں کوئی ماسٹر مائنڈ نہیں بلکہ یہ عوام کا پُرامن احتجاج ہے۔ اس پر فرید احمد نے کہا کہ یہ سب نہیں چلے گا۔ ہم نے کہا کہ ملک قانون سے چلتا ہے اور ملک کے قانون نے ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیا ہے، ہم عام لوگوں کے خلاف بنائی جانے والی پالیسیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں گے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ میں نے کہا کہ دفعہ 144 نافذ کرنا اور زیادہ خطرناک ہے۔ خیر، یہ ساری بحث جاری رہی۔ پھر انہوں نے کہا کہ آپ کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ کل شام تک آپ پولیس کی تحویل میں رہیں گے۔

رات ہونے لگی۔ قہر کی سردی ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ مجھے بھوک لگی ہے اور گھر سے کمبل منگانا ہے۔ انہوں نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ مجھے ایک وائرلیس روم میں رکھا گیا۔ میز پر چار فون رکھے تھے۔ اسی کمرے میں ایک چین سنیچر اور ایک شرابی بھی رکھا ہوا تھا۔ شرابی پر الزام تھا کہ اس نے اپنے والدین پر پٹرول ڈال کر انہیں جلانے کی کوشش کی تھی۔ اسی کمرے میں مجھے بینچ پر سونے کو کہا گیا۔ میں کسی قیمت پر مجرموں کے ساتھ رات نہیں گزار سکتا تھا، اس لئے میں پوری رات کرسی پر بیٹھا رہا۔ لوگ ملاقات کے لئے آتے رہے۔


جب میں نے سونے سے انکار کیا تو ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ میں ٹیبل پر لگے ماربل پر سو جاؤں۔ ایسی کڑاکے کی سردی میں ایک پتلی سی چادر میں میں نے ساری رات گزار دی لیکن مجھے گھر سے کمبل لانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اگلے دن شام چار بجے تک احتجاج جاری رہا اور خبریں آتی رہی۔ میرا فون ضبط کرلیا گیا تھا۔ وہ اسے چیک کرنے لگے۔ انہوں نے جب میرے ذاتی پیغامات دیکھنا شروع کیے تو میں نے تھانے میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم گروپوں کے پیغامات چیک کر رہے ہیں۔ اگلے دن شام ہو گئی لیکن مجھے وہاں سے جانے کا اشارہ نہیں ملا۔ رات گئے ایس ایچ او نے بتایا کہ آپ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جب میں نے پوچھا کہ دفعات کیا عائد کیں تو کہنے لگے کل عدالت آکر دیکھ لینا۔ ایس ایچ او نے کہا کہ ایف آئی آر کی کاپی پر دستخط کیجیے۔ میں نے پڑھنے کے لئے ایف آئی آر مانگی تو صاف انکار کر دیا گیا۔


صبح مجھے عدالت لے جایا گیا۔ وہاں جاکر مجھے معلوم ہوا کہ مجھ پر آئی ٹی ایکٹ 153 اور 67 کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے۔ لیکن میرے لئے وہاں وکلاء کی قطار موجود تھی۔ تقریباً 18 وکیل تھے جنہوں نے جرح کی اور مجھے ضمانت پر رہا کروایا۔ مجھے ایسا لگتا ہے مجھے پیسہ کی کوئی قلت نہیں ہے اور اپنے لئے وکیل یا کوئی دوسرا بندوبست کرسکتا ہوں لیکن جس کا کوئی نہیں، گھر سے مضبوط نہیں، دو وقت کی روٹی نہیں ہے، کنبہ کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ان لوگوں کا کیا ہوگا؟

(مضمون نگار یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ سے جڑے ہیں۔ اس مضمون میں صرف ڈاکٹر علیم اللہ خان کا ہی موقف ہے، پولیس کا موقف نہیں ہے)

یہ مضمون ’نیوز لانڈری‘ ویب سائٹ پر ہندی میں شائع ہو چکا ہے

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Dec 2019, 4:11 PM