ضمنی انتخابات: سخت سیکورٹی کے درمیان بانکی پور، منجل پور اور دَتیا اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ کا عمل جاری
بہار کی بانکی پور نشست پر انتخابی میدان میں 25 امیدوار قسمت آزما رہے ہیں۔ یہاں اصل مقابلہ بی جے پی کے نیرج سنہا، آر جے ڈی کی ریکھا گپتا اور جن سوراج پارٹی کے امیدوار پرشانت کشور کے درمیان ہے۔

3 ریاستوں کی 3 اسمبلی نشستوں پر آج ووٹنگ کرائی جا رہی ہے۔ ان میں بہار کی ہائی پروفائل بانکی پور نشست، گجرات کی منجل پور نشست اور مدھیہ پردیش کی سب سے زیادہ زیر بحث دَتیا اسمبلی نشست شامل ہیں۔ بانکی پور اسمبلی نشست بی جے پی کے قومی صدر اور راجیہ سبھا رکن نتن نوین کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی تھی۔ مدھیہ پردیش کی دَتیا نشست کانگریس کے راجندر بھارتی کی رکنیت اپریل میں منسوخ کیے جانے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ یہاں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ گجرات کی منجل پور نشست بی جے پی کے رکن اسمبلی یوگیش پٹیل کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے بعد یہاں ضمنی انتخاب کرایا جا رہا ہے۔
بہار کی بانکی پور نشست پر انتخابی میدان میں 25 امیدوار قسمت آزما رہے ہیں۔ یہاں اصل مقابلہ بی جے پی کے نیرج سنہا، آر جے ڈی کی ریکھا گپتا اور جن سوراج پارٹی کے امیدوار پرشانت کشور کے درمیان ہے۔ بانکی پور نشست پر صبح 7 بجے سے ووٹنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے اور شام 6 بجے تک 422 پولنگ مراکز پر 3.79 لاکھ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ووٹنگ کے لیے مجموعی طور پر 422 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں اور سیکورٹی کے لیے مرکزی فورسز کی 14 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بہار پولیس اور ہوم گارڈ کے اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔
گجرات کی منجل پور نشست پر بی جے پی نے ستیش پٹیل کو اپنا امیدوار بنایا ہے جبکہ کانگریس نے سابق وزیر بھیکھا بھائی رباری کو میدان میں اتارا ہے۔ منجل پور علاقہ ضلع ودودرا میں واقع ہے۔ 2008 کی حد بندی کے بعد یہ نشست وجود میں آئی تھی۔ سال 2022 کے گجرات اسمبلی انتخابات میں یہاں سے بی جے پی کے یوگیش پٹیل کامیاب ہوئے تھے۔ اس سیٹ پر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان آمنے سامنے کا مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
مدھیہ پردیش کی مشہور دتیا اسمبلی نشست پر بھی بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ بی جے پی کی جانب سے آشوتوش تیواری اور کانگریس کی جانب سے گھنشیام سنگھ کے درمیان رسہ کشی ہو رہی ہے۔ اس اسمبلی نشست کے ضمنی انتخاب میں 2.20 لاکھ سے زائد ووٹر 21 امیدواروں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ووٹنگ کے لیے مجموعی طور پر 291 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔
اس درمیان بانکی پور نشست پر ایک تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ جاری ووٹنگ کے دوران بہار بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری نتن ابھشیک نے ضمنی انتخاب میں ووٹرز کی تصدیق (ای پی آئی سی آئی ڈی اور نام کی مطابقت) کو سختی سے نافذ کرنے کے لیے بانکی پور اسمبلی کے ریٹرننگ آفیسر (ڈی سی ایل آر) کو خط لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’’ہمارے علم میں آیا ہے کہ جن سوراج پارٹی سے وابستہ نمائندے اور کارکن فرضی ووٹ ڈال کر ووٹنگ کے عمل کی غیر جانبداری کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’اس طرح کی حرکتیں جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو کمزور کرتی ہیں اور آزاد، منصفانہ و شفاف انتخابات کرانے کے ہمارے اجتماعی عزم کے خلاف ہیں۔‘‘
اس معاملے میں بی جے پی نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’انتخاب میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو روکنے اور ووٹنگ کے عمل کو محفوظ رکھنے کے لیے ہم الیکشن کمیشن اور پولنگ اہلکاروں سے سختی کے ساتھ تصدیقی ضابطوں کو نافذ کرنے کی پُرزور اپیل کرتے ہیں۔ خاص طور پر ہر ووٹر کے لیے اپنا اصل الیکٹورل فوٹو شناختی کارڈ (ای پی آئی سی آئی ڈی) پیش کرنا اور ووٹ ڈالنے سے پہلے سرکاری ووٹر فہرست سے اپنی شناخت کا باریک بینی سے ملان کرانا لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔‘‘ بہار بی جے پی کے صدر سنجے سراوگی نے بھی اس معاملے میں اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو ووٹر یہاں موجود نہیں ہیں یا باہر ہیں، ان کے نام پر فرضی طریقے سے ووٹر شناختی دستاویزات بنا کر فرضی ووٹ ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں انتظامیہ کو تحریری شکایت دی ہے اور انتظامیہ اس سمت میں کارروائی بھی کر رہی ہے۔‘‘
بہرحال، بانکی پور ضمنی انتخاب میں ووٹنگ سے قبل جن سوراج کے بانی پرشانت کشور اپنی پارٹی کے لیڈروں کی مبینہ گرفتاری کے بعد پولیس تھانے پہنچ گئے ہیں۔ وہاں انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں کے ایس ایچ او 2 افراد کو غیر قانونی طریقے سے لائے ہیں۔ انہیں کئی گھنٹوں تک لاک اپ میں بٹھائے رکھا گیا اور پھر کہیں دوسری جگہ بھیج دیا گیا۔ وہ ہمیں کوئی جانکاری نہیں دے رہے اور کہہ رہے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں، ان کے پاس کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
