ضمنی انتخابات: ایس پی کی بہتر کارکردگی، بی جے پی۔بی ایس پی کانقصان

سماج وادی پارٹی نے بی جے پی اور بی ایس پی سے ایک ایک سیٹیں چھین کر اپنے سابقہ کارگردگی میں بہتری کامظاہر کرتے ہوئے مایوس کارکنوں میں جان پھونکی ہے

تصویر سوشل میڈیا
i

لکھنؤ: اتر پردیش کی یوگی حکومت کے گذشتہ ڈھائی سال کے میعاد کار کا امتحان مانے جارہے موجود ضمنی انتخابات میں حکمراں جماعت نے 11 میں سے آٹھ سیٹوں پر جیت درج کر کے اپنے وقار کو کافی حد بچا لیا، تاہم سماج وادی پارٹی نے بی جے پی اور بی ایس پی سے ایک ایک سیٹیں چھین کر اپنی سابقہ کارگردگی میں بہتری کامظاہر کرتے ہوئے مایوس کارکنوں میں جان پھونک دی ہے۔

سال 2017 کے اسمبلی انتخابات کے اعتبار سے بی جے پی اور بی ایس پی کو ایک ایک سیٹ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایس پی نے بی جے پی کے قبضے والی بارہ بنکی کی زید پور سیٹ ار بی ایس پی کے قبضے والی جلالپور سیٹ چھین کر دونوں پارٹیوں کو چونکا دیا ہے۔ ساتھ ہی بی ایس پی نے اپنی روایتی سیٹ رامپور پر اپنی گرفت کو برقرار رکھا ہے۔


ان انتخابات نے بی جے پی نے جہاں لکھنؤ کینٹ، گنگوہ،گوندنگر، مانکپور، بلہا،گھوسی اور اگلاس اسمبلی حلقوں پر جیت درج کی تو اس کی اتحاد اپنا دل(ایس) نے پرتاپ گڑھ اسمبلی سیٹ پر جیت کر پرچم لہرایا ہے۔تو سماج وادی پارٹی نے رامپور،جلالپور اور زید پور اسمبلی سیٹوں پر کامیابی درج کی ہے۔

نفع نقصان کی بات کریں تو یہ ضمنی انتخاب سماج وادی پارٹی کے لئے سب سے زیادہ حوصلہ افزا تو بی ایس پی کے لئے کافی مایوس کن ہیں۔اس ضمنی انتخاب میں بی ایس پی اپنے ہی امیدوار کے ذریعہ خالی کی گئی سیٹ کو بھی نہیں بچاسکی۔تو یوپی کی سیاست کے حاشیہ پر پڑی کانگریس نے گذشتہ اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں کافی بہتر مظاہرہ کیا ہے حالانکہ گنگوہ سیٹ پر جیت کی آس آخری لمحوں میں دھومل ہوگئی ۔لیکن مجموعی طور پر کانگریس کے ووٹ شیئر میں اضافہ ہوا ہے جو اس کے لئے حوصلہ افزا ہیں۔


دلچسپ ہے کہ آخری مرحلو ں میں بی ایس پی کو جلالپور میں ایس پی امیدواروں کے ہاتھوں اپنی سیٹ گنوانی پڑی تووہیں سہانپور کی گنگوہ میں تقریبا 14 ہزار ووٹوں کے سبقت کے باوجود آخری مراحل میں کانگریس کے نعمان مسعود بھی بی جے پی امیدوار سے پچھڑ گئے۔مئو کے گھوسی سیٹ پر ایس پی حمایتی آزاد امیدوار نے حکمراں جماعت کے امیدوار کو سخت ٹکر دی حالانکہ بی جے پی یہ سیٹ جیتنے میں کامیاب رہی۔

ووٹ فیصد کے اعتبار سے بھی بی جے پی کو مجموعی طور سے 5.62 فیصدی جبکہ ایس پی کو 22.62 فیصدی ووٹ ملے ۔اسی طرح سے بی ایس پی کو 17.02 فیصد تو کانگریس کے ووٹ فیصد میں اچھا اچھال دیکھنے کو ملا اور ا نے 11.50 فیصد ی ووٹ حاصل کئے۔اسدالدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بھی 1.04 فیصدی ووٹ حاصل کرکے اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔