لوک سبھا: فائنانس بل بغیر بحث کے پاس، کانگریس برہم

لوک سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ جیوترادتیہ سندھیا نے پارلیمنٹ ہاوس احاطے میں نامہ نگاروں سے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کو بولنے نہیں دے رہی ہے اور پارلیمنٹ میں بحث کرانے سے بھاگ رہی ہے۔

By یو این آئی

نئی دہلی: الگ الگ معاملے پر مختلف پارٹیوں کے ہنگامے، نعرے بازی اور کچھ پارٹیوں کے واک آؤٹ کے درمیان 2018 کا فائنانس بل، سبھی وزارتوں اور محکموں کے مطالبات زر اور متعلقہ تصرف بل کو لوک سبھا نے صوتی ووٹ سے منظوری دے دی۔ جس پر کانگریس نے کہا کہ مودی حکومت نے مالیاتی بل کو بحث کرائے بغیر اور شور شرابہ کے دوران منظور کرکے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔
لوک سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ جیوترادتیہ سندھیا نے پارلیمنٹ ہاوس احاطے میں نامہ نگاروں سے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کو بولنے نہیں دے رہی ہے اور پارلیمنٹ میں بحث کرانے سے بھاگ رہی ہے۔ وہ پارلیمانی روایات کو تباہ کررہی ہے اور کسی بحث کے بغیر اہم بلوں کو منظور کرارہی ہے ۔ پارلیمنٹ میں جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔
انہوں نے مودی حکومت کو متکبر قرار دیا اور کہا کہ پارلیمانی امور کے وزیر اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پارلیمنٹ میں مسلسل ہنگامہ ہورہا ہے لیکن حکومت نے ایک بار بھی اس سلسلے میں اپوزیشن پارٹیوں سے بات چیت کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ پارلیمنٹ خیالات کے تبادلہ کا فورم ہے اور جمہوریت اسی سے چلتی ہے لیکن بی جے پی ملک کا گھلا گھونٹ رہی ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ان کی پارٹی ضابطہ 193 کے تحت بھی اپنے تحریک التوا تجویز پر بحث کرانے کے لئے تیار ہے۔ لیکن حکومت اس پر بھی رضامند نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں کام کاج ہو اور اہم بلوں پر بحث کرانے کے بعد ہی منظور کئے جائیں اس کے لئے انہوں نے منگل کو لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن سے بھی بات چیت کی لیکن حکومت کسی بھی سطح پر اپوزیشن کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے اور پارلیمانی روایات کو تہس نہس کرنے پر آمادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو بھی بولنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔
حال کے سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی وزارت کی مطالبات زر اور فائنانس بل کی ایوان میں بغیر کسی بحث کے پاس کردیاگیا ہے۔ بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ 5 مارچ کو شروع ہونے کے بعد سے ہی ایوان میں حزب مخالف کے ممبران او ربرسراقتدار این ڈی اے کی حمایتی تیلگو دیشم پارٹی کے ہنگامہ کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہوپائی ہے۔

فائنانس بل اور کچھ وزارتوں کے مطالبات آج کی فہرست میں بحث کرانے اور پاس کرانے کے لیے موجود تھیں۔ پروگرام کی فہرست کے مطابق مختلف وزارتوں اور محکموں کے مطالبات زر ایک ساتھ شام 5 بجے پاس کرائے جانے تھے لیکن پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے صبح کارروائی شروع ہونے پر حزب مخالف کے ہنگامے کے درمیان اسپیکر سے گزارش کی کہ سبھی گرانٹس مانگیں اور فائنانس بل 2018 اور رواں مالی سال کی ضمنی مطالبات زر اور متعلقہ تصرف بل دوپہر 12 بجے کے بعد پاس کردیئے جائیں۔ اسپیکر نے ان کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لیے معطل کردی۔ کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر وزیر مالیات ارون جیٹلی نے سبھی وزارتوں اور محکمے کی گرانٹس مانگیں (گلے ٹین)، ان سے متعلقہ تصرف بل پاس کرانے کے لیے پیش کیا۔ جسے ایوان نے ہنگامہ کے دوران صوتی ووٹ سے پاس کردیا۔

اس کے بعد انہوں نے فائنانس بل 2018کو 21 ترمیمات کے ساتھ غور کرنے اور پاس کرانے کے لئے پیش کیا جسے ایوان نے بغیر بحث کے منظور کردیا۔ اسی دوران کانگریس، ترنمول کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ممبران ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ رواں مالی سال کے ضمنی مطالبات زر اور متعلقہ تصرف بل بھی بغیر کسی بحث کے پاس کردیئے گئے۔