رشوت معاملہ: سابق وزیر اعلیٰ پینارائی وجین اور ان کی فیملی کو مشکلات کا سامنا، ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ
کیرلم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر عمل کرے گی اور اسی کے مطابق قانونی کارروائی آگے بڑھائے گی۔

کیرلم میں ’سی ایم آر ایل رشوت معاملہ‘ سے متعلق سابق وزیر اعلیٰ پینارائی وجین اور ان کے خاندان کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ ریاست کے وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا نے ہفتہ کے روز کہا کہ نگرانی اور انسداد بدعنوانی بیورو (وی اے سی بی) اس معاملے میں 12 اکتوبر، پیر کو ایف آئی آر درج کرے گا۔ یہ قدم کیرالہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد اٹھایا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں وجین، ان کی بیٹی وینا ٹی اور داماد پی اے محمد ریاض کے نام شامل ہیں۔ ریاض رکن اسمبلی بھی ہیں، حالانکہ الزامات کی جانچ ہونی ابھی باقی ہے۔
کیرلم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر عمل کرے گی اور اسی کے مطابق قانونی کارروائی آگے بڑھائے گی۔ عدالت نے جمعہ کو ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے ریاستی پولیس کو سونپی گئی رپورٹ کی بنیاد پر معاملہ درج کیا جائے۔ ای ڈی نے اپنی جانچ اور انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت کی گئی تلاشی کے دوران جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب وی اے سی بی ایف آئی آر درج کرنے کے ساتھ جانچ کا عمل شروع کرے گا۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق کوچین منرلز اینڈ روٹائل لمیٹڈ (سی ایم آر ایل) نے وینا ٹی کی بند ہو چکی کمپنی ایکسالوجک سولیوشنز کو مبینہ طور پر 2.78 کروڑ روپے ادا کیے تھے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ یہ رقم انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سے متعلق مشاورتی خدمات کے نام پر دی گئی تھی۔ ای ڈی نے اپنی جانچ کے دوران جمع کیے گئے شواہد اور تلاشی سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پولیس سے معاملہ درج کرنے کو کہا تھا۔ اب ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان الزامات کی حقیقت جانچ کے بعد ہی واضح ہوگی۔
کیرالہ ہائی کورٹ نے جمعہ کو ریاستی حکومت کو ای ڈی کی رپورٹ کی بنیاد پر معاملہ درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس رپورٹ میں وزیر اعلیٰ پینارائی وجین، ان کی بیٹی وینا ٹی اور داماد پی اے محمد ریاض کے مبینہ کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ ای ڈی نے انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت اپنی جانچ اور تلاشی کے دوران جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت کی ہدایت کے بعد اب ریاستی حکومت کو اس معاملے میں قانونی کارروائی آگے بڑھانی ہے۔ وزیر داخلہ چنیتھلا نے کہا کہ حکومت عدالت کے فیصلے کا احترام کرے گی اور پیر کو ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
چنیتھلا نے بتایا کہ حکومت نے قانونی مشورے کے بعد پہلے ابتدائی جانچ کرانے کا راستہ اختیار کیا تھا۔ تاہم ہائی کورٹ نے مانا کہ اس معاملے میں ابتدائی جانچ کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت عدالت کی ہدایت کے مطابق آگے بڑھے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاملہ کسی بھی عدالت میں نہیں ٹھہر پائے گا، تو چنیتھلا نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے صورت حال واضح ہو گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس فیصلہ کے خلاف اپیل نہیں کرے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
