بامبے ہائی کورٹ نے ’ای وی ایم‘ کی جانچ کا دیا حکم، انتخابی تاریخ میں پہلی بار سنایا گیا ایسا فیصلہ
ممبئی سَب-اَربن ضلع کی سب ڈویژنل الیکشن افسر ارچنا قدم کے مطابق 2024 کے اسمبلی انتخاب سے متعلق ای وی ایم-وی وی پیٹ مشینوں کی جانچ 16 اپریل اور 17 اپریل کو ممبئی کے بوریولی (ایسٹ) میں کیا جائے گا۔

ہندوستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار عدالت نے ’ای وی ایم‘ یعنی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی جانچ کا حکم صادر کیا ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے ای وی ایم کے تجزیہ اور جانچ کرانے کا یہ فیصلہ ممبئی کی چاندیولی اسمبلی سیٹ سے متعلق داخل عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سنایا ہے۔ اس حکم کے بعد اب الیکشن کمیشن 168-چاندیولی اسمبلی حلقہ میں استعمال ہونے والی ای وی ایم کی جانچ کرے گا۔
ممبئی سَب-اَربن ضلع کی سب ڈویژنل الیکشن افسر ارچنا قدم کے مطابق 2024 کے اسمبلی انتخاب سے متعلق ای وی ایم-وی وی پیٹ مشینوں کی جانچ 16 اپریل اور 17 اپریل کو ممبئی کے بوریولی (ایسٹ) میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے ایک ویئرہاؤس میں کیا جائے گا۔ ای وی ایم کی جانچ کے دوران عرضی گزار اور کانگریس امیدوار خان محمد عارف (نسیم) اپنے ٹیکنیکل ریپریزنٹیٹیو کے ساتھ موجود رہیں گے۔ اس کے علاوہ شیوسینا امیدوار دلیپ لانڈے سمیت 168-چاندیولی اسمبلی حلقہ کے سبھی امیدواروں کو بلایا گیا ہے۔
ای وی ایم-وی وی پیٹ مشینوں میں مبینہ خامیوں کی شکایتیں پہلے بھی الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھائی گئی ہیں۔ حالانکہ ناقدین کے مطابق ای وی ایم سے جڑی فکروں کو کمیشن نے ٹھیک سے دور نہیں کیا ہے۔ 2024 اسمبلی انتخاب میں چاندیولی سے شیوسینا کے دلیپ لانڈے جیتے تھے، جبکہ کانگریس امیدوار نسیم خان دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ نتائج برآمد ہونے کے بعد نسیم خان نے بامبے ہائی کورٹ میں ای وی ایم-وی وی پیٹ مشینوں کی ٹیکنیکل جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک عرضی داخل کی تھی۔ فروری میں جسٹس سوم شیکھر سندریشن نے مشینوں کی جانچ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس حکم کے 2 ماہ بعد الیکشن کمیشن نے جانچ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ عدالتی حکم کے بعد الیکٹورل افسر نے 7 اپریل کو نسیم خان اور دیگر سبھی امیدواروں کو ایک خط جاری کیا، جس میں انھیں جانچ کے دوران موجود رہنے کے لیے کہا گیا۔ خط کے مطابق ای وی ایم-وی وی پیٹ مشینوں کے مینوفیکچرر بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ، بنگلورو کے انجینئر 16 اور 17 اپریل کو صرف ایک ڈائیگناسٹک جانچ کریں گے۔ انجینئر مشینوں کی جلی ہوئی میموری اور مائیکرو کنٹرولر کی جانچ کریں گے۔ جانچ صبح 9.30 بجے شروع ہونے والی ہے۔
اس معاملہ میں عرضی گزار نسیم خان نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں انتخاب کے بعد امیدواروں اور افسران کی موجودگی میں ای وی ایم-وی وی پیٹ مشینوں کی جانچ پہلے کبھی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انتخاب لڑ رہے امیدواروں کو ای وی ایم-وی وی پیٹ مشینوں کو لے کر کوئی شبہ ہے، تو الیکشن کمیشن کو انھیں دور کرنا چاہیے، جو بدقسمتی سے اب تک نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے ہائی کورٹ کے تازہ حکم کو اس معاملہ میں تاریخی فیصلہ بتایا ہے۔