بدری ناتھ ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے 6 افراد کی لاشیں برآمد

ہیلی کاپٹر میں کرناٹک کے 5 عقیدت مند اور دہلی کے رہائشی پائلٹ کیپٹن ہمانشو سمیت مجموعی طور پر 6 افراد سوار تھے۔ اس حادثے میں تمام افراد کی موت ہوگئی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>ہیلی کاپٹر، علامتی تصویر</p></div>
i

اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں بدری ناتھ دھام سے دہرادون جانے والے ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد شروع کیا گیا ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔ تقریباً 2 دنوں تک جاری کارروائی کے بعد اتوار کی صبح سبھی 6 متوفیوں کی لاشیں دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے نیچے لائی گئیں۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم اور شناخت سے متعلق کارروائیوں کے لیے ایمس رشی کیش بھیج دیا گیا ہے۔ دراصل، 30 اکتوبر بروز جمعہ دوپہر ایک بج کر15  منٹ پر ٹرانس بھارت ایوی ایشن پرائیویٹ لمیٹڈ کا ہیلی کاپٹر ’وی ٹی۔ ایچ سی ایکس‘ بدری ناتھ دھام سے سہستر دھارا (دہرادون) کے لیے پرواز بھر رہا تھا۔ اسی دوران جیوتیرمٹھ علاقے کے ہاتھی پہاڑ کے قریب سواری کھڑک میں ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوگیا۔ یہ علاقہ پانڈوکیشور کے اوپر جوشی مٹھ وادی میں واقع ہے۔

ہیلی کاپٹر میں کرناٹک کے 5 عقیدت مند اور دہلی کے رہائشی پائلٹ کیپٹن ہمانشو سمیت مجموعی طور پر 6 افراد سوار تھے۔ اس حادثے میں تمام افراد کی موت ہوگئی تھی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی چمولی پولیس، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، ہندوستانی فوج، آئی ٹی بی پی، ضلع انتظامیہ، فائر بریگیڈ اور محکمۂ جنگلات کی مشترکہ ٹیم کو جائے حادثہ کے لیے روانہ کیا گیا۔ اس مہم میں تقریباً100  اہلکار شامل تھے۔ حادثے کی جگہ گھنے جنگلات اور دشوار گزار پہاڑیوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیم کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خراب موسم، برف باری اور اندھیرے نے ریسکیو آپریشن کو مزید چیلنجنگ بنا دیا۔


جمعہ کی رات موسم خراب ہونے اور تاریکی بڑھنے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روکنا پڑا۔ اس کے بعد ہفتے کی صبح تقریباً 5 سے 6 بجے کے درمیان دوبارہ امدادی کارروائی شروع کی گئی۔ ریسکیو ٹیموں کو پیدل راستے سے جائے حادثہ تک پہنچنے میں تقریباً 6 سے 7 گھنٹے لگ گئے۔ پہاڑ کی بلند چوٹی پر تعینات فوجی اہلکار سب سے پہلے جائے حادثہ پر پہنچے، جبکہ نیچے سے روانہ ہونے والی دیگر ٹیمیں ہفتے کی دوپہر کے بعد وہاں پہنچ سکیں۔ مشترکہ ٹیموں نے جائے حادثہ سے تمام لاشیں جمع کرکے باڈی بیگ میں رکھ دیں۔ اس کے بعد دشوار گزار راستوں کو دیکھتے ہوئے ریسکیو کا راستہ تبدیل کرکے ٹولی نالہ کی جانب کارروائی آگے بڑھائی گئی۔ اس کے بعد انہیں جوشی مٹھ اور وہاں سے این ٹی پی سی ہیلی پیڈ لایا گیا۔

جوشی مٹھ کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ چندر شیکھر وششٹھ نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی فوج، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، مقامی پولیس، انتظامیہ، فائر بریگیڈ اور محکمۂ جنگلات کی مشترکہ ٹیم کو ریسکیو آپریشن کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیموں کو پانڈوکیشور سے پیدل راستے کے ذریعے پہاڑوں کے انتہائی دشوار گزار راستوں کو عبور کرنا پڑا۔ اسی وجہ سے آپریشن مکمل ہونے میں کافی وقت لگا۔ افسران کے مطابق لاشیں خراب حالت میں ملی ہیں۔ شناخت کے لیے لاشوں کو ایمس رشی کیش بھیجا گیا ہے، جہاں ڈی این اے سیمپلنگ سمیت دیگر قانونی کارروائیاں مکمل کی جائیں گی۔ چمولی پولیس نے سبھی 6 متوفیوں کی لاشیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پوسٹ مارٹم کے لیے ایمس رشی کیش بھیج دی ہیں۔ ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاشیں اہل خانہ کے حوالے کردی جائیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔