بی جے پی حکومت کے دعووں کی پول اس کے اپنے ہی رکن اسمبلی کھول رہے ہیں: اشوک گہلوت
اشوک گہلوت اور ٹیکارام جولی نے آنگن باڑی کی غذا کے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ خود حکمراں جماعت کے ارکان اسمبلی ہی سرکاری دعووں کی حقیقت سامنے لا رہے ہیں

جے پور: راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے دعووں کی حقیقت اب اس کے اپنے ہی رکن اسمبلی بے نقاب کر رہے ہیں۔ انہوں نے آنگن باڑی مراکز میں تقسیم کی جانے والی مقوی غذا (پوشاہار) کے خراب معیار کو لے کر بی جے پی رکن اسمبلی پرتاپ گمیتی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔
اشوک گہلوت نے کہا کہ راجستھان کی بی جے پی حکومت میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا، کیونکہ حکمراں جماعت کے نمائندے ہی سرکاری انتظامات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ادے پور میں منعقدہ ایک جائزہ میٹنگ کے دوران گوگندا سے بی جے پی رکن اسمبلی پرتاپ گمیتی نے کہا کہ آنگن باڑی کی مقوی غذا اتنی خراب ہے کہ جانور بھی اسے نہیں کھاتے۔ گہلوت نے اس تبصرے کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر قبائلی علاقوں میں بچوں اور حاملہ خواتین کی صحت کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک طرف سرکاری منصوبوں کے نفاذ میں تاخیر ہو رہی ہے اور دوسری طرف معصوم بچوں کے حصے کی غذا میں بھی بدعنوانی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نائب وزیر اعلیٰ دیا کماری کے سامنے ہی ان کی اپنی جماعت کے نمائندوں نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔ گہلوت نے سوال کیا کہ حکومت اشتہارات اور اجلاسوں سے آگے بڑھ کر غریب بچوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کب کرے گی۔
اشوک گہلوت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا اس بدعنوانی کی کبھی جانچ ہوگی یا قبائلی طبقے کے حقوق پر اسی طرح ڈاکہ ڈالا جاتا رہے گا۔
ادھر راجستھان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ٹیکارام جولی نے بھی بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سچ آخرکار سامنے آ ہی جاتا ہے، جبکہ جھوٹ کو سوچ سمجھ کر گھڑنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اگر بی جے پی کے اپنے رکن اسمبلی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آنگن باڑی کی مقوی غذا لوگ گھر لے جا کر پھینک دیتے ہیں اور جانور بھی اسے نہیں کھاتے، تو یہ ریاستی حکومت کی بڑی ناکامی ہے۔
ٹیکارام جولی نے کہا کہ حکومت ایک طرف تغذیہ اور ترقی کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بچوں کو دی جانے والی مقوی غذا معیار کے اعتبار سے انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں ڈبل انجن حکومت پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے اور انتظامی بدنظمی عروج پر ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
