’بی جے پی نے ثابت کر دیا کہ وہ نفرت کی سیاست کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی‘، ابھشیک پر حملہ کے بعد اکھلیش کا تلخ تبصرہ
ابھشیک بنرجی سونارپور علاقہ میں ووٹ شماری کے بعد ہوئے تشدد سے متاثر کنبوں سے ملاقات کرنے گئے تھے۔ اسی دوران کچھ لوگوں نے ان کا راستہ روک لیا اور ان پر کچے انڈے پھینکے گئے۔

مغربی بنگال کے سونارپور میں ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی پر حملہ کیے جانے کی خبر نے ایک بار پھر اپوزیشن کو بی جے پی حکومت پر حملہ کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد کے متاثرین سے ملاقات کے لیے پہنچے ابھشیک بنرجی پر مقامی مظاہرین نے کچے انڈے پھینکے اور ان کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی۔ اس واقعہ کے بعد ریاست میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس معاملے پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اپنا سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’بنگال میں ترنمول کانگریس کے اہم لیڈر ابھشیک بنرجی پر جان لیوا حملہ کروا کر بی جے پی حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نفرت اور پرتشدد سیاست کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ایسے حساس ماحول میں پولیس کی ناکامی کسی سازش کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ ابھشیک بنرجی سونارپور علاقہ میں ووٹ شماری کے بعد ہونے والے تشدد سے متاثر کنبوں سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔ اسی دوران کچھ افراد نے ان کا راستہ روک لیا۔ مظاہرین نے ان پر کچے انڈے پھینکے اور ہنگامہ آرائی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھشیک بنرجی کی سیکورٹی ٹیم کے اراکین بھی اس تصادم میں شامل ہوئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا۔
اس واقعہ پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ابھشیک بنرجی نے کہا کہ ’’ابھی ایک مہینہ بھی نہیں گزرا اور دیکھیے کیا حال کر دیا گیا ہے... یہ ہے ان کی جمہوریت کا نمونہ۔‘‘ انہوں نے اس حملے کے لیے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس درمیان ترنمول کانگریس نے اس حملے کو ’سازش‘ قرار دیتے ہوئے بی جے پی پر ریاست میں افراتفری پھیلانے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سونارپور علاقہ میں اضافی سیکورٹی اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔
