’آئین بدلنا چاہتی ہے بی جے پی اور آر ایس ایس‘، اقلیتی اجلاس میں تیجسوی یادو کا سخت تبصرہ
تیجسوی یادو نے مغربی بنگال کے لیڈر ہمایوں کبیر کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے بی جے پی سے 1000 کروڑ روپے لیے۔ اب وہ معاشرے میں کشیدگی پیدا کر کے اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ہندوستانی آئین میں تبدیلی کرنا چاہتی ہیں، اس لیے اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ماضی میں ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہوگی لیکن ان غلطیوں کی اصلاح کی جائے گی۔ آر جے ڈی لیڈر نے یہ باتیں ہفتہ (11 اپریل) کو پٹنہ کے شری کرشن میموریل ہال میں راشٹریہ جنتا دل کے اقلیتی سیل کی طرف سے منعقدہ ایک پروقار تقریب میں کہیں۔
اپنے خطاب میں تیجسوی یادو نے کہا کہ تمام لوگ ایک مقصد کے ساتھ آئے ہیں اور ہم سب کو بوتھ مضبوط کرنا ہے۔ آپ سب کو آج ملک کے حالات کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ملک کے آئین کی جگہ آر ایس ایس کا آئین چاہتی ہیں اور جمہوریت کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں ہے۔ اگر کوئی بھی اشتعال انگیز تقریر کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر میں بھی اشتعال انگیز تقریر کروں تو مجھ پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔
تیجسوی یادو نے مغربی بنگال کے لیڈر ہمایوں کبیر کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے بی جے پی سے 1000 کروڑ روپے لیے۔ اب وہ معاشرے میں کشیدگی پیدا کر کے اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ویڈیو وائرل ہے، آپ سب دیکھیے اور ان کے نظریات کو پہچانیے۔ اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ ’’ہم لالو پرساد کے بیٹے ہیں، یہ وہی بہار ہے جہاں لالو پرساد نے لال کرشن اڈوانی کے رتھ کو روک کر انہیں گرفتار کیا تھا۔ جب تیجسوی لا اینڈ آرڈر پر سوال اٹھاتا ہے تو اس پر جھوٹا کیس درج کر دیا جاتا ہے۔ بی جے پی کو اب تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ جب لالو پرساد کبھی نہیں جھکے تو ان کا بیٹا کیسے جھکے گا۔‘‘
بہار اسمبلی انتخاب کا ذکر کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ انتخاب میں دھاندلی کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم لوگ اپنے نظریات کے پکے ہیں اور ہم نے بی جے پی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کئی بار مختلف قسم کے بل لائی ہے، جن کی ہم نے مخالفت کی۔ جو بل اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کے لیے لائے گئے، ہم نے ہمیشہ ان کی مخالفت کی ہے اور کرتے رہیں گے۔ پہلے ہماری حکومت میں 35 سے 40 اراکین اسمبلی اقلیتی طبقہ سے ہوتے تھے، لیکن اب ان کی تعداد گھٹ رہی ہے۔ آسام میں حلقہ بندی کی گئی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی 30 سیٹیں کم ہو کر 20 رہ گئیں۔ یہ لوگ آئین میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
تیجسوی یادو نے کہ ہم اتنی بڑی تعداد میں ہیں۔ لیڈران کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارٹی کو مضبوط کریں۔ جدوجہد کے اس دور میں فرقہ پرست طاقتوں سے لڑنا ہے۔ سب کو ایک ساتھ رہنا اور کام کرنا ہے۔ اشتعال انگیز باتیں کہی جائیں گی، لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ متحد رہا جائے۔ اگر ہم سے ماضی میں کوئی غلطی ہوئی ہوگی، تو اسے سدھارنے کا کام کریں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔