قومی

’ڈھائی کلو کے ہاتھ‘ سے ولین کی چھٹی کرنے والا ’گھاتک‘ ہیرو- سنی دیول

سنی دیول کا شمار ان منتخب اداکاروں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے تقریباً تین دہائی سے اپنی بااثر اداکاری کی بدولت شائقین کے دلوں میں آج بھی ایک خاص مقام بنارکھا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سنی دیول، جن کی پیدائش 19اکتوبر 1956 کو ہوئی تھی، اداکاری کا ہنر انہیں وراثت میں ملا۔ ان کے والد دھرمیندر ہندی فلموں کے مشہور اداکار ہیں۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ سے سنی دیول اکثر اپنے والد کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے جایا کرتے تھے اس وجہ سے ان کا بھی رجحان فلموں کی جانب ہوگیا اور وہ بھی اداکار بننے کے خواب دیکھنے لگے۔

انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ممبئی سے مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے انگلینڈ کے مشہور اولڈ بوائے تھیئٹر میں اداکاری کی تعلیم حاصل کی۔ سنی نے اپنے کیریئر کی شروعات اپنے والد کی بنائی فلم بے تاب سے کی۔1983میں راہل رویل کی ہدایت میں بنی یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی۔

فلم بے تاب کی کامیابی کے بعد سنی دیول کو سوہنی مہیوال، منزل منزل، سنی جیسی زبردست فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا لیکن ان میں سے کوئی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوسکی۔

1985 میں سنی دیول کو ایک بار پھر سے راہل رویل کی ہدایت میں بنی فلم ’ارجن‘ میں کام کرنے کا موقع ملا جو ان کے کیریئر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں سنی نے ایک ایسے نوجوان کا کردار ادا کیا جو سیاست کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ فلم کی کامیابی کے ساتھ ہی سنی دیول ایک بار پھر سے فلم انڈسٹری میں اپنی کھوئی ہوئی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

فلم ارجن کی کامیابی کے بعد سنی کی شبیہ اینگری ینگ مین اسٹار کے طورپر بن گئی۔ اس فلم کے بعد پروڈیوسروں، ہدایت کاروں نے زیادہ تر فلموں میں سنی دیول کی اسی شبیہ کو پیش کیا۔ ان فلموں میں سلطنت، ڈکیت، یتیم، انتقام، پال کی دنیا جیسی فلمیں شامل ہیں۔

سال 1990 میں ریلیز ہوئی فلم’’گھائل‘‘ ان کے کیریئر کی اہم فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ فلم میں اپنی بہترین اداکاری کے لئے سنی دیول کو بہترین اداکار کے طوپر فلم فیئر ایوارڈ کے ساتھ ساتھ قومی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

’ڈھائی کلو کے ہاتھ‘ سے ولین کی چھٹی کرنے والا ’گھاتک‘ ہیرو- سنی دیول

1991 میں ریلیز ہوئی فلم ’نرسمہا‘ سنی کے کیرئیر کی سپرہٹ فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ این چندرا کی ہدایت میں بنی اس فلم میں سنی دیول کا کردار پوری طرح گرے شیڈ لئے ہوئے تھا، باوجود اس کے ان کی اداکاری شائقین کو پسند آئی اور فلم سپر ہٹ ہوگئی۔

1993میں ریلیز فلم ’دامنی‘ سنی کے فلمی کیریئر کی اہم کڑی ثابت ہوئی۔ یوں تو پوری فلم میناکشی شیشادری کے ارد گرد گھومتی ہے لیکن سنی نے اپنی بہترین اداکاری سے شائقین کا دل جیت لیا اوروہ بہترین اداکار کے قومی ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ سے نوازے گئے۔

1993سے 1996 تک سنی کے کیریئر کے لئے برا وقت ثابت ہوا۔ اس دوران ان کی کئی فلمیں ناکام رہیں۔1997 میں ریلیز ہوئی فلم ’’بارڈر‘‘اور ’ضدی‘ کی کامیابی کے بعد سنی فلم انڈسٹری میں ایک بار پھر سے اپنی کھوئی ہوئی شناخت پانے میں کامیاب ہوگئے۔ بارڈر میں انہوں نے مہاویر چکر پانے والے میجر کلدیپ سنگھ کے کردارمیں جان ڈال دی تھی۔

1999میں سنی دیول نے فلم ’دل لگی‘ کے ذریعہ فلم سازی اور ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھ دیا۔ سال 2001 میں ریلیز فلم ’غدر ایک پریم کتھا‘ بہترین فلم ثابت ہوئی۔ حب الوطنی کے جذبے سے بھرپور یہ فلم شائقین کو بے حد پسند آئی۔ ساتھ ہی یہ فلم آل ٹائم ہٹ فلموں میں شمار ہوگئی۔

سنی نے اپنے کیریئر میں اب تک 90 فلموں میں اداکاری کی ہے۔ سنی آج بھی اسی جوش و خروش کے ساتھ فلم انڈسٹری میں سرگرم ہیں۔

Published: 19 Oct 2018, 11:09 AM