ہنگامہ کے درمیان لوک سبھا سے پیدائش و اموات رجسٹریشن ترمیمی بل منظور، نہیں ہو سکی کوئی بحث

دوپہر 12 بجے لوک سبھا کی کارروائی جب شروع ہوئی، تو بی جے پی رکن پارلیمنٹ دلیپ سیکیا کی صدارت میں بل کو بحث اور منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ حالانکہ ہنگامہ کے سبب بل کو بغیر بحث کے ہی منظور کر لیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>لوک سبھا، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دسویں دن اپوزیشن نے دونوں ایوانوں میں طلبا پر پولیس کی بربریت معاملہ پر زبردست ہنگامہ کیا۔ اپوزیشن 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران طلبا پر ہوئی مبینہ پولیس کارروائی پر بحث اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے جوابدہی کا مطالبہ کرتا رہا، لیکن اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس دوران لوک سبھا نے ’پیدائش و اموات رجسٹریشن (ترمیمی) بل، 2026‘ کو منظوری دے دی۔ یہ بل بغیر کسی بحث کے ہی منظور ہو گیا۔

آج دوپہر 12 بجے ایوان کی کارروائی جب دوبارہ شروع ہوئی، تو بی جے پی رکن پارلیمنٹ دلیپ سیکیا کی صدارت میں بل کو بحث اور منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ اپوزیشن اراکین کی نعرے بازی کے درمیان اسے صوتی ووٹ سے منظور کر دیا گیا۔ اس دوران کئی اپوزیشن اراکین ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں موجودگی کا مطالبہ کرنے لگے۔


پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پیدائش و اموات رجسٹریشن ترمیمی بل پر بحث میں حصہ نہ لینے پر اپوزیشن سے ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس اہم بل پر بحث چاہتی تھی۔ رجیجو نے کہا کہ ’’یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ مستقبل میں ایسا دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔ جن لوگوں نے آپ کو پارلیمنٹ بھیجا ہے، وہ آپ سے جواب مانگیں گے۔‘‘ انہوں نے اپوزیشن اراکین سے اپیل کی کہ وہ مستقبل میں بلوں پر بحث میں حصہ لیں، نہ کہ ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالیں۔ دلیپ سیکیا نے بھی کہا کہ اپوزیشن کے تعاون کے بغیر بل کا منظور ہونا بدقسمتی کی بات ہے۔ بل منظور ہونے کے فوراً بعد ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ یہ بل ’پیدائش و اموات کے رجسٹریشن قانون، 1969‘ کی کچھ دفعات میں تبدیلی کرتا ہے۔ اس کا مقصد پیدائش اور موت جیسی اہم واقعات کی بروقت معلومات درج کرانے کو فروغ دینا ہے۔ بل میں تاخیر سے پیدائش اور موت کا اندراج کرانے کے قوانین کو سخت کیا گیا ہے۔ اب پیدائش یا موت کے 2 سال سے زیادہ عرصے بعد اندراج کرانے کے لیے فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ قانون میں ایک سال سے زیادہ تاخیر ہونے پر ضلع مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا مجاز ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے حکم کی ضرورت ہوتی ہے۔ نئے قانون میں 2 سال تک کی تاخیر کے لیے یہی انتظام برقرار رہے گا۔


مرکزی کابینہ نے 20 جولائی کو اس بل کو پیش کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس میں 2023 میں اصل قانون میں کی گئی تبدیلیوں کے بعد تاخیر سے اندراج کے طریقۂ کار میں مزید بہتری کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بل میں قانونی تعریفوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔