اپنے اکاؤنٹ میں 2,948,000,000 روپے دیکھ کر حیران رہ گیا بہاری مزدور، اب ملاقات کرنے والوں کی لگی بھیڑ

فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اکاؤنٹ میں نظر آنے والی یہ رقم کسی تکنیکی خامی کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ڈیجیٹل بینکاری کے دور میں بہار کے گیا جی سے ایک حیرت انگیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ بودھ گیا بلاک کے تحت آنے والے مست پورہ گاؤں کے ایک مزدور کے بینک اکاؤنٹ میں اچانک 2,948,000,000 روپے (2 ارب 94 کروڑ 80 لاکھ روپے) کا بیلنس ظاہر ہوا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ مست پورہ گاؤں کے رہائشی وکاس کمار پیشے کے اعتبار سے بجلی اور پلمبنگ کے مستری ہیں۔ انھیں سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ آخر ان کے اکاؤنٹ میں اتنے سارے پیسے کہاں سے آ گئے۔

بینک اکاؤنٹ میں بھاری رقم موجود ہونے کی خبر ملنے کے بعد وکاس کمار نے بتایا کہ ان کا جیو پیمنٹس بینک کا اکاؤنٹ گزشتہ تقریباً 5 سالوں سے فعال ہے۔ 2 دن قبل جب انہوں نے جیو فنانس ایپ کے ذریعے بیلنس چیک کیا تو کھاتے میں 2,94,80,00,000 روپے موجود دکھائی دیے۔ پہلی بار بیلنس دیکھ کر انہیں لگا کہ شاید یہ کوئی تکنیکی خرابی ہے، لیکن جمعرات (4 جون 2026) کی شام جب انہوں نے دوبارہ بیلنس چیک کیا تو اتنی ہی رقم نظر آئی۔


وکاس کمار کا کہنا ہے کہ بینک اکاؤنٹ میں اتنی بڑی رقم کافی دیر تک دکھائی دینے کے بعد ان کی حیرت بہت بڑھ گئی۔ انھوں نے بتایا کہ اکاؤنٹ کھلنے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر صرف 6 سے 7 لاکھ روپے تک کا لین دین ہوا ہوگا۔ ایسے میں اچانک اتنا بڑا بیلنس نظر آنا ان کے لیے انتہائی حیرت انگیز بات تھی۔ کسی ممکنہ بینکاری غلطی یا تکنیکی خامی کے خدشے کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اکاؤنٹ سے رقم نکالنے یا کسی قسم کا لین دین کرنے کی کوشش نہیں کی۔

اس خبر کے پھیلتے ہی گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں چہ می گوئیاں شروع ہو گئیں۔ بڑی تعداد میں لوگ وکاس کمار کے گھر ملاقات کرنے اور خبر کی صداقت جاننے کے لیے پہنچنے لگے۔ کوئی ان سے بیلنس دکھانے کی درخواست کر رہا ہے تو کوئی سوالات پر سوالات پوچھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ خبر تیزی سے وائرل ہونے لگی ہے۔


فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اکاؤنٹ میں نظر آنے والی یہ رقم کسی تکنیکی خامی کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس نوعیت کے واقعات ماضی میں بھی کئی بار سامنے آ چکے ہیں۔ بینک حکام کے مطابق ایسی صورتوں میں عموماً یہ رقم نکالی نہیں جا سکتی اور اکثر یہ معاملہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آتا ہے۔