بہار: پی ایم سی ایچ کے جونیئر ڈاکٹر پھر ہڑتال پر، او پی ڈی خدمات بند

جونیئر ڈاکٹرس ایسوسی ایشن (جے ڈی اے) نے 26 ستمبر سے اگلے حکم تک او پی ڈی خدمات بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ ایمرجنسی، آئی سی یو اور دیگر ضروری زندگی بچانے والی خدمات جاری رہیں گی۔

<div class="paragraphs"><p>پی ایم سی ایچ کے جونیئر ڈاکٹر پھر ہڑتال پر، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

بہار کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پٹنہ میڈیکل کالج ہاسپٹل (پی ایم سی ایچ) کے جونیئر ڈاکٹر ایک بار پھر ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ جونیئر ڈاکٹرس ایسوسی ایشن (جے ڈی اے) نے 26 ستمبر سے اگلے حکم تک او پی ڈی خدمات بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ ایمرجنسی، آئی سی یو اور دیگر ضروری زندگی بچانے والی خدمات جاری رہیں گی۔ جے ڈی اے نے محکمہ صحت سے اپنے مطالبات پر فوری بات چیت اور مقررہ مدت کے اندر کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔

جے ڈی اے نے اپنی ہڑتال کے پیچھے 4 اہم وجوہات بتائی ہیں۔ تنظیم کا پہلا مطالبہ ڈاکٹروں پر ہونے والے حملوں سے متعلق ہے۔ جے ڈی اے نے ڈی ایم سی ایچ (دربھنگہ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال) اور پی ایم سی ایچ میں حالیہ تشدد کے واقعات میں فوری کارروائی، ادارے کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے اور مؤثر حفاظتی انتظامات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسرا معاملہ سہرسہ میں ڈاکٹروں کے خلاف کی گئی کارروائی سے متعلق ہے۔ جے ڈی اے نے ڈاکٹر سشیل کمار آزاد اور ڈاکٹر روشن لال کے خلاف کی گئی کارروائی کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کے حالات کو دیکھتے ہوئے کارروائی کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور محکمہ صحت کو ڈاکٹروں کا موقف بھی سننا چاہیے۔


تیسرا مطالبہ بانڈ پر تعینات ڈاکٹروں سے متعلق ہے۔ جے ڈی اے کا کہنا ہے کہ ان ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں ترمیم کی جائے اور ان کی ذمہ داریوں کے مطابق مناسب عہدہ اور معاوضہ طے کیا جانا چاہیے۔ چوتھا مطالبہ این او سی پالیسی سے متعلق ہے۔ جے ڈی اے نے محکمہ صحت کے تحت عائد پابندیوں سے متعلق دفعات میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق موجودہ پابندی والی دفعات کا جائزہ لے کر ضروری ترمیم کی جانی چاہیے۔ جے ڈی اے نے کہا ہے کہ محکمہ صحت کو ان تمام مسائل پر ڈاکٹروں کے نمائندوں کے ساتھ فوری طور پر بات چیت کرنی چاہیے اور مقررہ مدت کے اندر حل نکالنا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔