بہار مانسون اجلاس: ’2 کمروں میں 565 بچے زیر تعلیم، ترجیحات کیا ہیں؟‘ بی جے پی لیڈر نے اپنی ہی حکومت پر اٹھائے سوال

بی جے پی رکن اسمبلی جیویش کمار نے اپنی ہی حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ 2 کمروں میں 565 بچے زیر تعلیم ہیں۔ کیا ہم بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں یا صرف بہلا رہے ہیں؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>بہار اسمبلی / آئی اے این ایس</p></div>
i

مانسون اجلاس کے دوسرے دن منگل کے روز بہار اسمبلی میں بی جے پی کے رکنِ اسمبلی جیویش کمار نے اسکولوں میں کلاس رومز کی کمی کو لے کر اپنی ہی حکومت پر سوال اٹھائے ہیں۔ اسپیکر کے سامنے اپنی بات رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کو اس معاملے میں پالیسی سطح پر فیصلہ کرنا چاہیے۔ 2 کمروں میں 565 بچے زیر تعلیم ہیں۔ کیا ہم بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں یا صرف بہلا رہے ہیں؟‘‘ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’’یہ ہمارے علاقے کا معاملہ ہے۔ ایسے بہت سے اسکول ہیں۔ یہاں وزیراعلیٰ بھی موجود ہیں۔ اس پر انتہائی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔‘‘

جیویش کمار نے مزید کہا کہ ’’ہم تعلیم کے لیے 77 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ بنا سکتے ہیں، تو زمین خرید کر اسکول کیوں نہیں بنا سکتے؟ ہماری ترجیح کیا ہے؟ حکومت بجٹ میں اس کے لیے انتظام کرے اور ایسے اسکولوں کی نشاندہی کرے۔ اسکول 2 شفٹوں میں چل رہے ہیں۔ 600-600 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس معاملے کو ترجیح دیتے ہوئے حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔‘‘ اس دوران ایوان میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکنِ اسمبلی آلوک کمار مہتا نے اسپیکر سے کہا کہ ’’زمین خریدنا اور کمرے تعمیر کرنا 2 الگ الگ چیزیں ہیں۔ جہاں زمین موجود ہے، وہاں بھی کمروں کی تعداد کم ہے اور طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے۔‘‘


آلوک کمار مہتا نے یہ بھی کہا کہ ’’اب جہاں بھی اسکول ہیں، اس کے آس پاس حکومت کی زمین موجود نہیں ہے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا حکومت اسکول کے قریب والی زمین کا حصول (اراضی ایکوزیشن) کرکے اسکول کی عمارت تعمیر کرنا چاہتی ہے؟‘‘ آلوک مہتا نے کہا کہ ’’تغلقی فرمان جاری ہوتے رہے ہیں، کبھی اضلاع کو عمارتیں تعمیر کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور کبھی بہار اسٹیٹ ایجوکیشن انفراسٹرکچر کو یہ کام دے دیا گیا۔ اس طرح کا ماحول بن گیا ہے کہ ذمہ داری طے نہیں ہو رہی۔ یہ بتایا جائے کہ کیا حکومت کی دلچسپی اسکولوں میں کمروں کی تعمیر اور زمین حاصل کر کے اسکولوں کی توسیع کرنے میں ہے یا نہیں، اگر نہیں تو آخر کیوں؟‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔