بہار: بھرت تیواری معاملے میں بڑی کارروائی، انکاؤنٹر میں شامل پولیس اہلکاروں پر ایف آئی آر درج
بھرت تیواری کی ماں آشا دیوی نے ایس پی کو دی گئی درخواست میں کہا کہ ’’پولیس کے سامنے ان کے بیٹے نے فیس بک لائیو کے دوران اپنے ہاتھ میں موجود ہتھیار پھینک دیا تھا اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔‘‘

بہار کے بھوجپور کے مشہور بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس معاملے میں جگدیش پور سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او)، شاہ پور کے تھانہ انچارج سمیت انکاؤنٹر میں شامل دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف شاہ پور تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی انکاؤنٹر کو لے کر اٹھنے والے سوالات اور اہل خانہ کی شکایات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ معاملے کی تحقیقات پہلے ہی مختلف سطحوں پر چل رہی ہے اور اب پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد تحقیقات نے نیا موڑ لے لیا ہے۔
غورطلب ہے کہ بھرت تیواری کی پولیس انکاؤنٹر میں موت کے بعد اہل خانہ اور گاؤں والوں نے کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے کو لے کر ریاست بھر میں سیاسی بیان بازی بھی ہوئی اور عدالتی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس معاملہ میں اب تک 5 پولیس اہلکاروں کو معطل کیا جا چکا ہے۔ ان میں اس وقت کے شاہ پور تھانہ انچارج راجیش کمار مالاکار، سب انسپکٹر انکت آرین، سب انسپکٹر ہریش چندر کمار، اسسٹنٹ سب انسپکٹر راماشنکر یادو اور خاتون کانسٹیبل میرا کماری شامل ہیں۔
بھرت تیواری کی والدہ آشا دیوی نے بھوجپور ایس پی کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ ان کا بیٹا سیلاب متاثرین کے مسائل کو لے کر انتظامیہ کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہا تھا۔ واقعے والے دن کئی پولیس افسران اور اہلکار ان کے گھر پہنچے تھے اور بیٹے کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا تھا۔ آشا دیوی نے درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ پولیس کے سامنے ان کے بیٹے نے فیس بک لائیو کے دوران اپنے ہاتھ میں موجود ہتھیار پھینک دیا تھا اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ اس کے باوجود پولیس اہلکاروں نے اسے پکڑ کر زمین پر گرا دیا اور کئی گولیاں ماریں۔ درخواست میں ماں آشا دیوی نے لکھا ہے کہ ان کے بیٹے کو 5 گولیاں ماری گئی ہیں۔ درخواست میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ جگدیش پور کے سب ڈویژنل پولیس آفیسر کے حکم پر گولیاں ماری گئی ہیں۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق متوفی کے بھائی چندن تیواری اور پورے خاندان نے صاف الفاظ میں کہا کہ انہیں حکومت کی عدالتی تحقیقات پر بھروسا نہیں ہے۔ ان کا الزام ہے کہ معاملے میں انصاف ملنے میں تاخیر ہو رہی ہے، جبکہ مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہمارا پورا خاندان خودسوزی کرے گا۔ ہم صرف تحقیقات نہیں، مجرموں کی سزا چاہتے ہیں۔‘‘
دوسری جانب بھرت تیواری کا موبائل اب تک پولیس کی طرف سے واپس نہ کیے جانے کے حوالے سے متوفی کے والد کاشی ناتھ تیواری نے میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ واقعے کے وقت نوجوان کے پاس 2 موبائل فون تھے۔ ان میں سے ایک موبائل اور اس کی موٹر سائیکل انہیں واپس کر دی گئی ہے، لیکن دوسرا ذاتی موبائل اب بھی پولیس کے قبضے میں ہے۔
