سپریم کورٹ سے امیزن کو بڑی راحت، ’این سی ایل اے ٹی‘ کا حکم اور سی سی آئی کا 202 کروڑ کا جرمانہ منسوخ
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے حکم دیا کہ امیزن سے جمع کرائی گئی یا وصول کی گئی کوئی بھی رقم 8 ہفتوں کے اندر واپس کی جائے۔

سپریم کورٹ سے بدھ (27 مئی) کو ای-کامرس شعبے کی مشہور امریکی کمپنی امیزن کو بڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے نیشنل کمپنی لا اپیلیٹ ٹریبونل (این سی ایل اے ٹی) کے اس حکم کو منسوخ کر دیا ہے، جس نے فیوچر گروپ کے ساتھ امیزن کی سرمایہ کاری کے سودے پر لگی اینٹی-ٹرسٹ معطلی کے خلاف اس کی اپیل خارج کر دی تھی۔ یہ فیصلہ آج جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے سنایا۔
سپریم کورٹ نے کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا (سی سی آئی) کے 17 دسمبر 2021 کے اس حکم کو بھی پلٹ دیا ہے، جس میں امیزن پر 202 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سی سی آئی کے حکم میں فیوچر گروپ کے ساتھ اس کے سودے کو معطل کر دیا گیا تھا۔ جسٹس وکرم ناتھ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’تمام نتائج کو دیکھتے ہوئے اپیل کی اجازت دی جاتی ہے۔ این سی ایل اے ٹی کی جانب سے 13 جون 2022 کو دیے گئے فیصلے اور سی سی آئی کی طرف سے 17 دسمبر 2021 کو جاری کردہ حکم کو منسوخ کیا جاتا ہے۔‘‘
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے حکم دیا کہ امیزن سے جمع کرائی گئی یا وصول کی گئی کوئی بھی رقم 8 ہفتوں کے اندر واپس کی جائے۔ یہ فیصلہ امیزن کے لیے ایک اہم جیت ہے جو فیوچر گروپ کے ساتھ اپنے سودے کے سلسلے میں طویل عرصے سے قانونی لڑائی لڑ رہا تھا۔ غور طلب ہے کہ کمپیٹیشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے امیزن پر 202 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ یہ جرمانہ فیوچر کوپنس پرائیویٹ لمیٹڈ (ایف سی پی ایل) میں 49 فیصد حصہ داری خریدنے کے دوران اہم معلومات چھپانے کے الزام میں عائد کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ امیزن نے 2019 میں فیوچر کوپنس میں سرمایہ کاری کے لیے منظوری لیتے وقت اہم حقائق کو چھپانے کے الزام میں عائد کیے گئے جرمانے کو چیلنج کیا تھا۔ معاملہ فیوچر کوپنز پرائیویٹ لمیٹڈ میں امیزن کی 2019 میں کی گئی سرمایہ کاری سے منسلک ہے، جو فیوچر ریٹیل لمیٹڈ (ایف آر ایل) سے متعلق ایک ادارہ تھا۔ امیزن نے سی سی آئی کو بتایا تھا کہ وہ ایف سی پی ایل میں 49 فیصد حصہ داری خرید رہی ہے۔ اس سودے میں ایف آر ایل کے 2.52 فیصد شیئر ایف سی پی ایل کو ٹرانسفر کرنے کا انتظام بھی شامل تھا۔ امیزن کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ کاری ایف سی پی ایل کے گفٹ کارڈ، لائلٹی کارڈ اور پیمنٹ کاروبار کو مضبوط کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
سی سی آئی نے 28 نومبر 2019 کو اس سودے کو منظوری دی تھی۔ کمیشن نے کہا تھا کہ اس لین دین سے ہندوستان میں مسابقت پر منفی اثر پڑنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حالانکہ حکم میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر فراہم کردہ معلومات غلط پائی گئیں تو منظوری خود بخود منسوخ ہو جائے گی۔ بعد میں سی سی آئی نے امیزن کے اندرونی دستاویزات کی جانچ کی۔ کمیشن کے مطابق ان دستاویزات سے پتہ چلا کہ امیزن کی دلچسپی صرف ایف سی پی ایل کے گفٹ کارڈ کے کاروبار تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کا مقصد فیوچر ریٹیل اور ہندوستان کے آف لائن ریٹیل سیکٹر میں اسٹریٹجک پکڑ بنانا تھا۔
دستاویزات میں پروجیکٹ تاج، فیوچر ریٹیل کے اسٹور نیٹورک، بڑے شہروں میں تیز رفتار ڈیلیوری، پرائیویٹ لیبل گروسری اور فیشن پروڈکٹس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین میں تبدیلی کی صورت میں حصہ داری بڑھانے کے امکان کا ذکر تھا۔ سی سی آئی کا ماننا تھا کہ امیزن نے اس معاہدے کے حقیقی مقصد اور دائرہ کار کو چھپایا تھا۔ 17 دسمبر 2021 کو سی سی آئی نے امیزن-فیوچر معاہدے کو دی گئی اپنی منظوری پر روک لگا دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی امیزن کو فارم-2 میں نئی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ علاوہ ازیں مسابقتی ایکٹ کی دفعات 43اے، 44 اور 45 کے تحت 202 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔
امیزن نے اس حکم کو نیشنل کمپنی لاء اپیلیٹ ٹریبونل (این سی ایل اے ٹی) میں چیلنج کیا تھا۔ ٹریبونل نے بڑے پیمانے پر سی سی آئی کے فیصلے کو برقرار رکھا اور کہا کہ امیزن نے معاہدے سے متعلق ضروری معلومات فراہم نہیں کیں۔ ٹریبونل نے دفعہ 43اے کے تحت عائد کردہ جرمانے میں مداخلت کرنے سے انکار کرتے ہوئے امیزن کو 45 دنوں کے اندر ادائیگی کرنے کی ہدایت دی تھی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
