بھوج شالہ معاملہ: سپریم کورٹ سے مسلم فریق کو نہیں ملی راحت، عرضی گزار کو واپس ہائی کورٹ جانے کی ہدایت
سپریم کورٹ نے اے ایس آئی سروے کی رپورٹ اور ویڈیو گرافی پر اعتراضات کے حوالے سے داخل عرضی میں دخل دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہائی کورٹ ان تمام پہلوؤں پر غور کرے گی۔‘‘

مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع تاریخی ’بھوج شالہ‘ تنازعہ میں مسلم فریق کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے مسلم عرضی گزاروں کو فی الحال مدھیہ پردیش ہائی کورٹ بھیج دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اے ایس آئی سروے کی رپورٹ اور ویڈیو گرافی پر اعتراضات کے حوالے سے داخل عرضی میں دخل دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہائی کورٹ ان تمام پہلوؤں پر غور کرے گی۔‘‘
مسلم فریق کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سی جے آئی سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی کی بنچ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 16 مارچ کے اس حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست پر غور کرنے سے منع کر دیا، جس میں 2 اپریل سے باقاعدہ سماعت اور جائے وقوعہ کے معائنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ مسلم فریق کی دلیل ہے کہ انہیں اے ایس آئی کی سروے رپورٹ اور ویڈیو گرافی پر اپنے اعتراضات درج کرانے کا موقع نہیں ملا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ عبوری حکم کے تحت حتمی سماعت کے وقت ان تمام اعتراضات پر غور کرنے کا مجاز ہے۔
عرضی گزاروں کی پیروی کرتے ہوئے سینئر وکیل سلمان خورشید نے عدالت میں کہا کہ سروے کے دوران ان کے اعتراضات کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلم فریق کو ویڈیو گرافی کی کاپی سونپی جائے، تاکہ وہ وتفصیل سے اپنے اعتراضات درج کر سکیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ ویڈیو گرافی کے وقت صرف 2 لوگوں کو اجازت دی گئی تھی جو ہر جگہ موجود نہیں رہ سکتے تھے۔ سماعت میں جلد بازی نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے دستاویزات کے مطالعہ کے لیے وقت مانگا ہے۔
سپریم کورٹ کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ ہائی کورٹ نے پہلے ہی یہ یقینی بنانے کے لیے حکم جاری کر دیا ہے کہ تمام فریق کے اعتراضات پر فیصلہ لیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اے ایس آئی نے سائٹ کی ویڈیو گرافی کی ہے اور اپیل کنندہ نے اس دوران کچھ اعتراضات بھی اٹھائے تھے جو ریکارڈ میں درج ہے۔ عدالت نے یقین ظاہر کیا کہ ہائی کورٹ ویڈیو دیکھنے کے بعد ان اعتراضات کو دور کر دے گی، اس لیے موجودہ مرحلہ پر سپریم کورٹ کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔