دہلی میں الیکشن سے قبل کیجریوال ’ہندوتوا‘ کے رَتھ پر ہوئے سوار!

پی ایم مودی کی ہی راہ پر چلتے ہوئے کیجریوال نے کٹر پسند ہندوؤں کو خوش کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور کیجریوال کے رویہ میں تبدیلی لوک سبھا الیکشن کا نتیجہ برآمد ہونے کے بعد ہی نظر آنے لگی تھی۔

تصویر بذریعہ دی انڈین ایکسپریس
تصویر بذریعہ دی انڈین ایکسپریس

قومی آواز تجزیہ

اس بات کا احساس تو ہر کسی کو ہوگا کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اب وہ نہیں رہے جو انّا تحریک کے وقت ہوا کرتے تھے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کے حکمراں ہونے کے بعد وہ بھی ’عام آدمی‘ سے ایک ’سیاستداں‘ بن گئے ہیں اور سیاسی بیان بازی کرنا بھی سیکھ گئے ہیں۔ اب جب کہ دہلی اسمبلی الیکشن کافی نزدیک ہے، اور کیجریوال کو اپنی کرسی خطرے میں نظر آ رہی ہے تو انھوں نے ایک بڑا داؤ کھیلا ہے۔ یہ داؤ ’ہندوتوا‘ کا ہے جس پر سوار ہو کر نریندر مودی نے ’وزیر اعظم‘ کی کرسی تک کا سفر پورا کیا۔

پی ایم نریندر مودی کی ہی راہ پر چلتے ہوئے اروند کیجریوال نے کٹر پسند ہندوؤں کو خوش کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور یہ سلسلہ لوک سبھا الیکشن کا نتیجہ برآمد ہونے کے بعد آہستگی کے ساتھ شروع ہوا تھا اور اب اپنے عروج پر ہے۔ انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کے 10 ستمبر والے دہلی ایڈیشن میں ایک اشتہار صفحہ نمبر 5 پر شائع ہوا ہے، اسے دیکھ کر آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اب کیجریوال نے خود کو ’ہندوتوا‘ کی رتھ پر پوری طرح سے سوار کر دیا ہے۔ وہ جان گئے ہیں کہ ہندوتوا کے خلاف بول کر یا پھر پی ایم مودی کی مخالفت کر کے برسراقتدار نہیں رہ سکتے، اس لیے ہندوستانی اقدار کو پیچھے بھی چھوڑنا پڑے تو وہ بے جھجک ایسا کریں گے۔

تصویر بذریعہ دی انڈین ایکسپریس
تصویر بذریعہ دی انڈین ایکسپریس

ہم کیجریوال کے جس اشتہار کی بات کر رہے ہیں، وہ دراصل’گنیش چترتھی‘ سے متعلق ’پبلک نوٹس‘ ہے۔ اس نوٹس کے اوپر ایک تصویر ہے جس میں گنیش جی کی مورتی نظر آ رہی ہے۔ اس کے ٹھیک نیچے وزیر اعلیٰ کیجریوال ہاتھ جوڑ کر کندھے پر لال چنری رکھے، پیشانی پر ٹیکہ لگائے مسکرا رہے ہیں۔ کیجریوال نے پہلے کسی بھی تہوار کے موقع پر اس طرح کا اشتہار اخباروں یا ٹی وی میں نہیں دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اب ان کی سوچ بہت بدل گئی ہے، وہ بھی کچھ خاص لوگوں کو خوش کر کے کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے پی ایم مودی کے خلاف آواز اٹھانی بھی بند کر دی ہے، بلکہ وہ تو دفعہ 370 جیسے معاملوں میں مودی جی کی تعریف بھی کر چکے ہیں۔

ویسے اسی سال جنوری میں وزیر اعلیٰ کیجریوال نے بوانا میں دہلی سرکار کی ’شری کرشن گئوشالہ‘ کا دورہ بھی کیا تھا اور اشارہ دے دیا تھا کہ وہ اب ہندوتوا کے خلاف نہیں بلکہ ساتھ ہیں۔ کیجریوال نے شری کرشن گئوشالہ کا ای رکشہ سے دورہ کیا تھا کیونکہ یہ گئوشالہ تقریباً 36 ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس دورہ کے بعد وزیر اعلیٰ نے ہریانہ کے کئی گئوشالاؤں کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کر دیا تھا۔ اب دیکھنے والی بات تو یہ ہوگی کہ کیا پچھلی بار عوامی مسائل دور کرنے کا وعدہ کر حکمراں ہوئے کیجریوال اس بار ہندوتوا کے سہارے اپنی کرسی بچانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں!

Published: 10 Sep 2019, 7:10 PM