بارامتی اسمبلی ضمنی انتخاب: سنیترا پوار کو ’بلا مقابلہ‘ اسمبلی بھیجنے کی تیاری میں این سی پی
این سی پی کے سینئر لیڈر سنیل تٹکرے نے کہا کہ ’’اگر ضرورت پڑی تو پرفل پٹیل اور میں دہلی جا کر کانگریس لیڈران سے بات کریں گے کہ بارامتی ضمنی انتخاب میں اپنا امیدوار کھڑا نہ کریں۔‘‘

بارامتی اسمبلی ضمنی انتخاب سے قبل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) لیڈر سنیل تٹکرے نے منگل (24 مارچ) کو ایک اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجیت پوار کی سیٹ رہی بارامتی اسمبلی حلقہ میں بلا مقابلہ انتخاب کرائے جانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے لیے این سی پی لیڈران اپوزیشن پارٹیوں سے بات کریں گے۔ دراصل مہاراشٹر میں پونے کی بارامتی اسمبلی سیٹ اور اہلیہ نگر کی راہوری اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب ہونے ہیں۔ بارامتی سیٹ سے آنجہانی سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار رکن اسمبلی تھے اور راہوری سیٹ سے بی جے پی کے شیواجی کردیلے رکن اسمبلی تھے۔ ان کے انتقال کے بعد یہ دونوں سیٹیں خالی ہو گئیں۔ 23 اپریل کو یہاں ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ ہونی ہے۔
اب این سی پی کا منصوبہ ہے کہ پارٹی کے سینئر لیڈران سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے ملنے کے لیے دہلی جائیں گے۔ ساتھ ہی ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا سے بھی بات چیت کریں گے۔ سنیل تٹکرے نے کہا کہ ’’اگر ضرورت پڑی تو پرفل پٹیل اور میں دہلی جا کر کانگریس لیڈران سے بات کریں گے کہ بارامتی ضمنی انتخاب میں اپنا امیدوار کھڑا نہ کریں۔‘‘ جبکہ شرد پوار کی پارٹی نے اعلان کر دیا تھا کہ بارامتی سے این سی پی (ایس پی) کا امیدوار نہیں اتارا جائے گا۔ اس پر حال ہی میں کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار نے کہا تھا کہ اگر شرد پوار امیدوار کھڑا نہیں کرتے ہیں تو بارامتی کے انتخابی میدان میں کانگریس اپنا امیدوار اتارے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی تھی کہ این سی پی (ایس پی) نے بغیر کسی بات چیت کے بارامتی سے امیدوار نہ اتارنے کا فیصلہ کیسے لے لیا؟
واضح رہے کہ بارامتی اور راہوری اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے 30 مارچ کو نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔ اس کے بعد 6 اپریل تک کاغذات نامزدگی داخل کیے جا سکتے ہیں۔ 7 اپریل کو کاغذات کی جانچ ہوگی، 9 اپریل تک نام واپس لیے جا سکتے ہیں، پھر 23 اپریل کو ووٹنگ اور 4 مئی کو نتیجہ آئے گا۔ یعنی 6 اپریل تک طے ہو جائے گا کہ سنیترا پوار بلا مقابلہ رکن اسمبلی منتخب کی جائیں گی یا پھر ووٹنگ کے ذریعہ فیصلہ ہوگا۔ 6 سے 9 اپریل کے درمیان میں این سی پی کے پاس موقع ہوگا کہ اگر کوئی پارٹی امیدوار بھی اتار دیتی ہے تو اس سے نام واپس لینے کی اپیل کی جا سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔