بار کونسل آف انڈیا کے چیئرمین منن کمار مشرا کی کرسی خطرے میں! شریک چیئرمین نے مانگا استعفیٰ، 15 روز کا دیا الٹی میٹم
بی سی آئی کے شریک چیئرمین سداشیو ریڈی نے چیئرمین مشرا کے استعفیٰ کے پیچھے 150 کروڑ روپے کا غلط استعمال، خاندان کے افراد کی تقرریاں اور ’نلسار‘ کے طلبہ کے خلاف غیرقانونی کارروائی جیسی وجوہات بتائی ہیں۔

بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کے چیئرمین منن کمار مشرا کا نام ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ اسی دوران بی سی آئی کے شریک چیئرمین اور سینئر ایڈوکیٹ وائی آر سداشیو ریڈی نے منن کمار مشرا کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے چیئرمین پر کئی الزامات عائد کیے ہیں۔ ساتھ ہی انہیں 15 روز کا الٹی میٹم بھی دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سداشیو ریڈی نے بی سی آئی کی قیادت سے اختلاف ظاہر کرتے ہوئے منن کمار مشرا سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق بار کونسل بہتر کا حقدار ہے۔ انہوں نے منن مشرا کی قیادت میں کونسل کے کام کاج کے حوالے سے کئی سنگین الزامات عائد کیے اور سوالات اٹھائے ہیں۔
واضح رہے کہ سداشیو ریڈی نے چیئرمین منن مشرا کے استعفیٰ کے پیچھے 150 کروڑ روپے کا غلط استعمال، خاندان کے افراد کی تقرریاں اور ’نلسار‘ کے طلبہ کے خلاف غیرقانونی کارروائی جیسی وجوہات بتائی ہیں۔ ریڈی نے چیئرمین منن مشرا کو 6 صفحات پر مشتمل ایک خط لکھ کر ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مشرا کو لکھا ہے کہ بار کونسل کا معیار برقرار رکھنے کے لیے انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ استعفیٰ کے لیے انہوں نے منن مشرا کو 15 روز کا وقت بھی دیا ہے۔
بار کونسل کے چیئرمین سداشیو ریڈی نے اپنے خط میں چیئرمین کے خلاف کئی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان میں فنڈز کی ہیرا پھیری کا الزام سب سے نمایاں ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کونسل کے فنڈز سے 150 کروڑ روپے چیئرمین کے زیر کنٹرول ٹرسٹ میں ٹرانسفر کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کو کونسل میں شامل کیا۔ ریڈی نے بی سی آئی کی ویب سائٹ پر کونسل کے ملازمین کی مکمل تفصیلات عام کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارے کے کام کاج میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایسی معلومات کا عام ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی خط میں ’نلسار‘ یونیورسٹی کے طلبہ کے خلاف غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائی کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے وکلاء مسلسل منن کمار مشرا کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ وکلاء نے بار کونسل آف انڈیا کے دفتر کا گھیراؤ کر کے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرا گزشتہ 14 سالوں سے اس عہدے پر ہیں اور انہوں نے وکلاء کی فلاح و بہبود کے لیے کام نہیں کیا۔ دوسری جانب بامبے بار ایسوسی ایشن نے بھی ’نلسار‘ طلبہ کے معاملے پر ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
