بلرام پور: وکیل بننا چاہتی تھی عصمت دری متاثرہ، لیکن ظالموں نے...

اہل خانہ کے مطابق متاثرہ گریجویشن کی طالبہ تھی۔ منگل کو وہ بی کام سال دوم میں داخلہ لینے کے لئے گھر سے نکلی تھی۔ کالج سے لوٹتے وقت درندوں نے لڑکی کا اغوا کرلیا اور اسے ہوس کا نشانہ بنایا۔

علامتی تصویر سوشل میڈیا
علامتی تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بلرامپور: اترپردیش کے ضلع بلرامپور کے گینسڑی علاقے میں درندوں کی حیوانیت کا شکار ہوکر اپنی جان گنوانے والی دلت متاثرہ قانون کی پڑھائی پڑھ کر وکیل بننا چاہتی تھی۔ خاندانی ذرائع نے جمعہ کو بتایا کہ 22سالہ بیٹی قانون کی پڑھائی پڑھ کر وکیل بننا چاہتی تھی۔ بیٹی کے سپنوں کو اہل خانہ بھی تعبیر دینا چاہتے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق متاثرہ گریجویشن کی طالبہ تھی۔ منگل کو وہ بی کام سال دوم میں داخلہ لینے کے لئے گھر سے نکلی تھی۔ کالج سے لوٹتے وقت درندوں نے لڑکی کا اغوا کرلیا اور اسے ہوس کا نشانہ بنایا۔

اہل خانہ کے بقول مجرمین نے متاثرہ کو مدہوشی کا انجکشن بھی لگایا تھا۔ نیم بیہوشی کی حالت میں گھر پہنچی متاثرہ کے ہاتھ میں ویگو بندھا ہوا تھا۔ اس کی حالت کو دیکھ کر اہل خانہ علاج کے لئے اسپتال کے لئے روانہ ہوئے لیکن متاثرہ نے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔اس ضمن میں پولس نے دو ملزمین کو گرفتار کر کے انہیں جیل بھیج دیا ہے۔


متاثرہ دوران پڑھائی فیملی کے اخراجات کا بھی انتظام کرتی تھی۔وہ پڑھائی سے وقت نکال کر ایک پرائیویٹ کمپنی میں نوکری کرتی تھی۔ اس کے حوصلے اور ہمت پر پورے کنبے کو ناز تھا۔اور یہی وجہ ہے کہ چار دن بعد بھی ماں کا بیٹی کی یاد میں رو رو کر برا حا ل ہے۔اس واقعہ کے بعد پورے گاؤں میں اداسی کا سایہ ہے۔گاؤں میں بھاری پولس فورس کی تعیناتی سے گاؤں باشندے خائف ہیں۔

وہیں دوسری جانب اس پورے معاملے میں ضلع کی سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ سماج وادی پارٹی،بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس پارٹی کے مقامی لیڈر ان اس طرح کے خوفناک واقعات کے لئے حکومت کو ذمہ دار مان رہے ہیں۔سماجی تنظیموں کے اراکین نے کینڈل مارچ نکال کر اس واقعہ پر اپنے اشتعال کا اظہار کیا اور متاثرہ کے لئے انصاف کا مطالبہ کیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔