دن میں گائے کے لئے احتجاج، رات میں گائے کی اسمگلنگ
کرناٹک کے وٹلپدنور میں پولس نے دو افراد کو گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک بجرنگ دل کا کارکن ہے اور گئو رکشا کے لئے آواز اٹھاتا ہے۔

گائے کے نام پر ہندووادیوں کا ملک بھر میں موب لنچنگ کا خونی کھیل چل جاری ہے۔ یہ لوگ اس قدر غنڈہ گردی پر آمادہ ہیں کہ جہاں جی چاہے لوگوں پر، بالخصوص مسلمانوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ حال ہی میں الور میں موب لنچنگ کے ذریعہ گئو رکشکوں کی طرف سے قتل کیا گیا میوات کا اکبر خان اس کی مثال ہے۔ لیکن یہ ہندووادی کس طرح کی گائے کی خدمت کرتے ہیں اور گائے کو کتنا مقدس مانتے ہیں اس کا وقتاً فوقتاً پردہ فاش ہوتا رہتا ہے۔
کرناٹک کے وٹلپدنور میں پولس نے گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک بجرنگ دل کا کارکن ہے اور گئو رکشا کے لئے آواز اٹھاتا رہتا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ہندووادی تنظیم بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے لوگوں نے پچھلے ہفتہ گائے کے حق میں مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرین کی اپیل تھی کہ گائے ذبح کرنے اور غیرقانونی طور پر انہیں لانے لے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور گاڑیوں کی چیکنگ میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔ ان لوگوں نے مسلم طبقہ سے بھی اپیل کی تھی کہ گئو کشی نہ ہو اور گائے کی اسمگلنگ پر روک لگے اس کے لئے وہ اپنے طبقہ کے لئے فتویٰ جاری کریں۔
اسی دن رات کو کدامبو جنکشن نامی علاقہ میں پولس افسران نے ایک پک اپ ٹرک کی تلاشی لی۔ رات کے تقریباً 11 بجے لی گئی تلاشی میں ٹرک سے مبینہ طور پر چار گایوں اور ایک بچھڑے کو برآمد کیا گیا۔
پولس نے موقع سے 48 سالہ ششی کمار اور اس کے 21 سالہ ڈرائیور حارث کو گرفتار کر لیا۔ دی نیوز منٹ کی خبر کے مطابق پولس نے تصدیق کر دی ہے کہ ششی کمار بجرنگ دل کا کارکن ہے اور وٹلپدنور ضلع کا رہائشی ہے، جبکہ حارث کا گئو اسمگلنگ میں ریکارڈ پایا گیا ہے۔
پولس کے مطابق گایوں اور بچھڑوں کو لے جانے کے لئے ٹرک کو تبدیل کیا گیا تھا تاکہ باہر سے اندازہ نہ ہو سکے کہ اندر کیا بھرا ہوا ہے۔ پولس نے دونوں ملزمان کے خلاف مویشی قانون اور گائے ذبح سے متعلق قانون کی دفعات اور آئی پی سی کی دفعہ 379 (چوری) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گئو اسمبلگ میں بجرنگ دل کے کارکن کا ملوث ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندووادی کس طرح کی گائے خدمت کرتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔