بابری مسجد فیصلہ: ’سنی وقف بورڈ‘ غیر مطمئن، نرموہی اکھاڑہ کا خیر مقدم

بابری مسجد اراضی کی حق ملکیت معاملے میں اہم فریق سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے پوری طرح مطمئن نہیں ہے اور فیصلہ پڑھنے کے بعد ہی لائحہ عمل طے کیا جائے گا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: بابری مسجد اراضی کی حق ملکیت معاملے میں اہم فریق سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے پوری طرح مطمئن نہیں ہے اور فیصلہ پڑھنے کے بعد ہی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ جبکہ نرموہی اکھاڑا نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ عدالت نے پچھلے ڈیڑھ سو سال سے جاری ان کی لڑائی کو تسلیم کیا ہے اور انہیں مندر کی تعمیر کے لئے مرکزی حکومت کے ذریعہ تشکیل دیئے جانے والے ٹرسٹ میں نمائندگی دی ہے اور اس کے لئے وہ عدالت کے ممنون ہیں۔

سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ کا فیصلہ آنے کے بعد عدالت کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ عدالت کا تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد ہی مستقبل کے لائحہ عمل پرغور کیا جائے گا۔

نرموہی اکھاڑے کے ترجمان کارتک چوپڑا نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے تئیں ممنون ہیں کہ اس نے ان کی جدوجہد کو تسلیم کیا اور رام مندر بنانے کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے قائم کیے جانے والے ٹرست میں انہیں مناسب نمائندگی دی ہے۔ ہندو مہاسبھا کے وکیل ورون کمار سنہا نے کہا کہ یہ تاریخی فیصلہ ہے اور سپریم کورٹ نے کثرت میں وحدت کا پیغام دیا ہے۔

Published: 9 Nov 2019, 1:11 PM