ایودھیا: نذرانہ چوری کی تفتیش کے دوران رام مندر انتظامیہ میں بڑی تبدیلی، انل مشرا کے 2 قریبی ہٹائے گئے

مندر کے انتظامات سے جن 2 لوگوں کو ہٹایا گیا ہے، ان میں کے ڈی تیواری رام للا کے نذرانے کا حساب رکھتے تھے، اور بجرنگ پاٹھک وی آئی پیز کے لیے پرساد اور دیگر تحائف کے انتظام کو دیکھتے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>رام مندر، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

رام مندر ایودھیا نذرانہ چوری کی تفتیش جاری ہے۔ محکمۂ داخلہ کی جانب سے تشکیل دی گئی ’خصوصی جانچ ٹیم‘ (ایس آئی ٹی) کی حتمی رپورٹ آگے کی کارروائی کے لے ’شری رام جنم بھومی چھیتر ٹرسٹ‘ کو سونپ دی گئی ہے۔ اس دوران رام مندر ٹرسٹ کے انتظامات میں ایک بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ سابق ٹرسٹی انل مشرا کے 2 قریبیوں کو مندر انتظامیہ سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ مندر کے انتظامات سے جن 2 لوگوں کو ہٹایا گیا ہے، ان میں کے ڈی تیواری عرف بڑے بابو اور بجرنگ پاٹھک ہیں۔ کے ڈی تیواری رام للا کے زیورات اور عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کی گئی اشیاء کا حساب کتاب رکھتے تھے، اور بجرنگ پاٹھک وی آئی پی عقیدت مندوں کے لیے ’پرساد‘ اور دیگر تحائف کا انتظام دیکھتے تھے۔ ان دونوں کو ہی شکایت کی بنیاد پر پہلے ہی نوٹس دیا جا چکا تھا۔ اب رام مندر کے انتظامات سے ہٹا کر باغ بجیسی میں واقع تیرتھ علاقہ پورم روانہ کر دیا گیا۔

ٹرسٹ کی جانب سے کارروائی کے بعد دونوں پر رام مندر احاطے میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے، جس کے بعد دونوں ہی منگل کے روز سے مندر میں داخل نہیں ہو رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ رام مندر میں تعینات خاتون علاقائی آفیسر کی شکایت کے بعد کارروائی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ ’درشن‘ کے دوران ’پرساد‘ کے انتظامات کو لے کر بجرنگ پاٹھک اور خاتون علاقائی آفیسر کے درمیان تنازعہ ہوا تھا، جس کے بعد شکایت درج کرائی گئی۔ رام مندر نذرانہ چوری کی تفتیش کے بعد مندر انتظامات میں مستقل تبدیلیاں آرہی ہیں اور اسے اہم مانا جا رہا ہے۔ اسی درمیان خبر ہے کہ ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ ملنے اور اسے ٹرسٹ کے ساتھ شیئر کیے جانے کی تصدیق کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے اور سابق ٹرسٹی انل مشرا مسلسل سادھو سنتوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔


خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ نے ایک سینئر آفیسر کے حوالے سے بتایا کہ رپورٹ ٹرسٹ کے ساتھ شیئر کی گئی ہے، لیکن اس میں کیا لکھا ہے، اس کی خبر نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کے ذریعہ تشکیل دی گئی ’ایس آئی ٹی‘ کی ابتدائی رپورٹ میں چمپت رائے اور انل مشرا کے نام شامل تھے۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی ’ایس آئی ٹی‘ پورے معاملے کی علیحدہ جانچ کر رہی ہے اور اسے اپنی رپورٹ سل بند لفافے میں داخل کرنی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سنتوں کے ایک گروپ نے کھلے طور پر چمپت رائے کی حمایت شروع کر دی ہے۔ سابق ٹرسٹی مشرا مختلف مقامات پر میٹنگ کرکے اپنے اور رائے پر لگے سبھی الزامات کو سازش بتا کر خارج کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ کئی سادھوؤں اور سنتوں کا بھی ماننا ہے کہ چمپت رائے بے قصور ہیں۔ واضح رہے کہ رام مندر نذرانہ چوری کا معاملہ اس سال جون کے پہلے ہفتے میں سامنے آیا تھا، لیکن اس معاملے میں سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا، اور اب تک 8 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔