ایودھیا قضیہ: مسلم پرسنل لاء بورڈ کا نظر ثانی عرضی دسمبر میں داخل کرنے کا فیصلہ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) ایودھیا فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کرے گا، ظفریاب جیلانی نے کہا کہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں درخواست دائر کی جائے گی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دسمبر کے پہلے ہفتے میں نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پرسنل لا بورڈ نے ٹوئٹ کے ذریعے یہ معلومات دی۔ بورڈ کے سکریٹری اور سینئر وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا کہ سنی وقف بورڈ کی نظرثانی درخواست داخل کرنے سے بورڈ پر کوئی منفی قانونی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام مسلم تنظیمیں نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے حوالہ سے ایک رائے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سنی وقف بورڈ نے ایودھیا کی متنازعہ اراضی کی ملکیت کے بارے میں 9 نومبر کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کر لیا ہے۔ بابری مسجد تنازعہ میں سنی وقف بورڈ کلیدی فریق تھا۔ سنی وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں پانچ ایکڑ اراضی لینے کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

سنی وقف بورڈ اس کے لئے اندرونی طور پر تیار ہے لیکن کوئی حتمی فیصلہ لینے سے پہلے یہ مرکزی اور ریاستی حکومت کی پیش کش کا جائزہ لے گا، اس کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ ہوگا۔ غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ نے ایودھیا کی متنازعہ اراضی پر رام کے ایک مندر کی تعمیر کا حکم دیتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ ایودھیا میں کسی جگہ مسجد تعمیر کرنے کے لئے سنی وقف بورڈ کو 5 ایکڑ اراضی فراہم کی جائے۔ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ جب حکومت اس ضمن میں پیشکش کرے گی تو پھر اس بارے میں فیصلہ لیا جائے گا کہ مذکورہ زمین کو قبول کیا جائے یا نہیں۔ پریس کانفرنس میں بورڈ کے چیئرمین ظفر فاروقی نے واضح طور پر کہا کہ بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو منظور کرلیا ہے۔ لیکن زمین کے بارے میں حکومت کی پیش کش لی جائے گی، تب ہی کوئی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ بورڈ کے چیئرمین ظفر فاروقی نے گزشتہ روز اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کی تھی۔

فاروقی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ مرکز اور ریاستی حکومت کو ایودھیا میں مسجد بنانے کے لئے 5 ایکڑ اراضی سنی وقف بورڈ کو دینے کے حکم کی تعمیل کے بارے میں بورڈ اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ ممبروں کو اپنی حتمی رائے دینے کے لئے ابھی مزید وقت درکار ہے، لہذا اس سلسلے میں جو بھی فیصلہ لیا جائے گا، سبھی کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ بورڈ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بورڈ کی جانب سے صرف چیئرمین ظفر فاروقی کو ایودھیا تنازعہ پر میڈیا سے بات کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

Published: 27 Nov 2019, 6:11 PM